سندھ حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں ڈینگی پر قابو پانے کے اقدامات میں تیزی

عرفان علی عرفان علی

سندھ حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں ڈینگی پر قابو پانے کے اقدامات میں تیزی

سندھ حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں ڈینگی پر قابو پانے کے اقدامات میں تیزی


کراچی کی 150 یونین کونسلز میں فومیگیشن مکمل، باقی علاقوں میں تین روز میں اسپرے کیا جائے گا۔ کمشنر کراچی 


حیدرآباد کی 30 یونین کونسلز میں ڈینگی ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی، فیومیگیشن اور لاروا تلفی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ کمشنر حیدرآباد




چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی ہدایت پر صوبے بھر میں ڈینگی کی روک تھام اور انسداد کی وسیع مہم جاری ہے۔ کراچی اور حیدرآباد ڈویژن کے کمشنرز نے چیف سیکریٹری سندھ کو فومیگیشن، آگاہی مہمات اور لاروا کے خاتمے سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹس پیش کی ہیں۔ کمشنر کراچی سید حسن نقوی کے مطابق کراچی ڈویژن کی 150 یونین کونسلز میں فومیگیشن اور اسپرے کی کارروائیاں مکمل کرلی گئی ہیں، جب کہ باقی علاقوں میں آئندہ تین دنوں کے اندر کارروائی مکمل کرلی جائے گی۔  ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ان ڈور ریزیڈیول اسپرے (IRS) تمام 322 گھروں میں کیا گیا ہے جہاں ڈینگی کے مریض رپورٹ ہوئے تھے۔   کمشنر کراچی نے مزید بتایا کہ گزشتہ چار دنوں کے دوران کنٹرول روم میں 14 شکایات موصول ہوئیں جنہیں فوری طور پر حل کر دیا گیا۔


دوسری جانب کمشنر حیدرآباد فیاض عباسی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ چیف سیکریٹری سندھ کی ہدایت کے مطابق  انسدادِ ڈینگی مہم ضلع حیدرآباد میں بھی بھرپور انداز میں جاری ہے۔  لاروا کی تلفی اور مچھروں کی افزائش روکنے کے اقدامات روزانہ کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔  ڈینگی کے حساس علاقوں کی نشاندہی کے لیے ایک جامع سروے مکمل کیا گیا جس میں 30 یونین کونسلز کو ہاٹ اسپاٹس قرار دیا گیا، جن میں 9 تعلقہ سٹی، 9 تعلقہ قاسم آباد اور 12 تعلقہ لطیف آباد شامل ہیں۔ ان علاقوں کی کل آبادی 4 لاکھ 10 ہزار 299 ہے جو  82 ہزار 51 گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔   حفاظتی اقدامات کے تحت 229 مقامات سے پانی کے ذخائر ختم کیے گئے اور ڈینگی ہاٹ اسپاٹ علاقوں کے 7 ہزار 57 گھروں کے 17 ہزار 8 کمروں میں ان ڈور اسپرے (IRS) کیا گیا۔  انہونے مزید بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران 2 ہزار 241 فومیگیشن اسپرے صبح اور شام کے وقت کیے گئے تاکہ مچھروں کی افزائش کو مؤثر انداز میں روکا جا سکے جب کہ عوامی آگاہی کے لیے 3 ہزار 698 آگاہی سیشنز منعقد کیے گئے جن میں زیادہ تر ہاٹ اسپاٹ علاقوں کے رہائشیوں کو صفائی ستھرائی اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا گیا۔  انہونے مزید بتایا کہ ڈپٹی کمشنر آفس کے کنٹرول روم کو 46 شکایات موصول ہوئیں جنہیں تمام حل کر دیا گیا۔ کمشنر حیدرآباد نے مزید بتایا کہ 17 سرکاری و نجی اسپتالوں میں 340 بسترے ڈینگی مریضوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو بروقت علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔  


چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے تمام ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ انسدادِ ڈینگی اقدامات میں مزید تیزی لائی جائے اور حساس علاقوں کے ہر گھر تک فومیگیشن اور آگاہی مہم کو یقینی بنایا جائے۔  انہوں نے کہا کہ سخت نگرانی، فوری کارروائی اور عوامی تعاون ہی ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے مؤثر ذرائع ہیں۔ چیف سیکریٹری نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ مقامی انتظامیہ سے تعاون کریں اور اپنے گھروں و اردگرد کے ماحول کو صاف رکھیں تاکہ مچھروں کی افزائش کو روکا جا سکے۔