سندھ جھول کے قریب گاؤں زرین آباد سے مسلح افراد نے نوجوان لڑکی سونیا دختر بابو کولہی کو اغوا کرلیا

عرفان علی عرفان علی

سندھ  جھول کے قریب گاؤں زرین آباد سے مسلح افراد نے نوجوان لڑکی سونیا دختر بابو کولہی کو اغوا کرلیا

سندھ  جھول کے قریب گاؤں زرین آباد سے مسلح افراد نے نوجوان لڑکی سونیا دختر بابو کولہی کو اغوا کرلیا۔ جھول تھانے میں لڑکی کے والد بابو نے فریاد درج کرائی ہے کہ ملزم علی مراد بروہی نے ساتھیوں کی مدد سے اس کی 17 سالہ بیٹی سونیا کو اغوا کیا ہے۔ جھول پولیس نے رات گئے تک کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔

سندھ سہائی آرگنائزیشن سے تعلق رکھنے والی سماجی رہنما عائشہ دھاریجو نے اپنی فیس بک وال پر لکھا ہے کہ سانگھڑ/جھول سے سونیا کولہی دختر بابو کولہی کو اغوا کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ کم عمر لڑکیاں، جن کی عمریں پندرہ، سولہ یا سترہ سال ہوتی ہیں، یا تو زبردستی اغوا کرلی جاتی ہیں، یا اپنی مرضی سے نکاح کرلیتی ہیں اور مذہب تبدیل کرلیتی ہیں۔ آخر حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لیتی؟ اگر زبردستی کی جاتی ہے تو اس انسان کو سزا کیوں نہیں ملتی؟ کیونکہ لڑکی کے اغوا یا گھر سے نکلنے پر اس کے والدین شدید پریشانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ دہاڑی دار مزدور اور اس کے گھر والے روزمرہ کی ضروریات پوری نہیں کرپاتے اور صرف تلاش میں بھٹکتے رہتے ہیں۔

اگر شادی یا مذہب کی تبدیلی رضا و خوشی سے ہے تو حکومت کو چاہیے کہ ان لڑکیوں کو ان کے وارثوں سے ملانے کا بندوبست کرے اور ان کی سرپرستی کرے، کیونکہ اکثر لڑکیوں کا مستقبل بعد میں تاریک ہوجاتا ہے۔

یہ پوسٹس گردش کر رہی ہیں کہ جھول سے سونیا دختر بابو کولہی کو تین مسلح افراد نے زبردستی اغوا کرلیا ہے، جس کی ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔