اسلام آباد کا سبز دشمن: درختوں کی کٹائی پر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے شواہد اور فطری بحالی کی مرحلہ وار تجاویز

رباب ابراہیم رباب ابراہیم

اسلام آباد کا سبز دشمن: درختوں کی کٹائی پر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے شواہد اور فطری بحالی کی مرحلہ وار تجاویز


اسلام آباد، 

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حالیہ ہفتوں کے دوران درختوں کی کٹائی ایک سنجیدہ عوامی اور ماحولیاتی بحث کی شکل اختیار کر چکی ہے۔


شہر کے مختلف سیکٹرز، شاہراہوں اور ترقیاتی مقامات پر درختوں کے کاٹے جانے کے مناظر نے شہریوں، ماہرینِ ماحولیات اور سول سوسائٹی کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بظاہر اس کٹائی کو پیپر ملبری کے پولن سے جڑی موسمی الرجی اور صحت کے مسائل سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر پاکستان (ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان) کے فیلڈ مشاہدات اور سائنسی شواہد اس مؤقف کو ادھورا قرار دیتے ہیں۔ ادارے کے مطابق معاملہ صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں غیرمنظم  ترقیاتی سرگرمیاں، لینڈ کلیئرنگ اور درختوں کے انتظام کا غیر شفاف طریقۂ کار بھی شامل ہے۔


اسلام آباد کو ہمیشہ ایک سرسبز اور منظم شہر کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، جہاں درخت نہ صرف خوبصورتی بلکہ صاف ہوا، درجۂ حرارت میں توازن اور شہری حیات کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ حالیہ کٹائی نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے اور یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ترقی اور صحت کے نام پر قدرتی ماحول کو اس انداز میں نقصان پہنچانا ناگزیر تھا یا اس کے متبادل، ماحول دوست اور دیرپا حل موجود تھے۔


درختوں کی کٹائی کہاں اور کتنی ہورہی ہے ؟

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق حالیہ عرصے میں درختوں کی کٹائی کے کئی بڑے واقعات سامنے آئے ہیں جو محض پیپر ملبری کے خاتمے تک محدود نہیں۔ ادارے کے فیلڈ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایچ-8 اسلام آباد ایکسپریس وے، جہاں ایک یادگار کی تعمیر مجوزہ ہے، اس کے قریب تقریباً پانچ ہیکٹر رقبے پر سبزہ اور درخت صاف کیے گئے۔ اسی طرح مارگلہ انکلیو لنک روڈ کے منصوبے کے دوران دس سے پندرہ ہیکٹر تک کا علاقہ درختوں اور قدرتی سبزہ سے محروم ہو چکا ہے۔


ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ درختوں کی کٹائی کا دائرہ صحت کے جواز سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ اگر مقصد صرف پولن سے بچاؤ ہوتا تو محدود اور ہدفی اقدامات کیے جا سکتے تھے، مگر بڑے پیمانے پر لینڈ کلیئرنگ اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دیتے ہوئے ماحولیاتی اثرات کو ثانوی حیثیت دی گئی۔

سرکاری مؤقف اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کا نقطۂ نظر

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کا کہنا ہے کہ پیپر ملبری کے درخت عوامی صحت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں، خاص طور پر موسمِ بہار میں ان کے نر درختوں سے خارج ہونے والا پولن الرجی کے مریضوں کے لیے مسائل پیدا کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر ان درختوں کو ہٹانے کا عمل جاری ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ غیر مقامی پودوں کا مؤثر انتظام ضروری ہے، تاہم ادارہ اس امر پر زور دیتا ہے کہ کسی بھی قسم کی کٹائی میں ماحول دوست اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق درختوں کے اندھا دھند خاتمے سے نہ صرف مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ نئے ماحولیاتی خطرات جنم لیتے ہیں، جن کا خمیازہ شہر اور اس کے باسیوں کو طویل عرصے تک بھگتنا پڑتا ہے۔

پیپر ملبری: مسئلہ کیا ہے؟

پیپر ملبری ایک غیر مقامی درخت ہے جو اسلام آباد اور راولپنڈی میں کئی دہائیوں سے موجود ہے۔ یہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مقامی پودوں، جھاڑیوں اور درختوں کی نشوونما کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے نر درخت پولن پیدا کرتے ہیں جو الرجی کا سبب بنتا ہے، جبکہ مادہ درخت پھل دیتے ہیں اور بیجوں کے ذریعے مزید پھیلاؤ کا باعث بنتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق پیپر ملبری کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ جڑوں سے دوبارہ اگنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا مکمل خاتمہ نہ صرف مشکل بلکہ عملی طور پر ممکن نہیں۔ اگر اسے بغیر منصوبہ بندی کے کاٹا جائے تو یہ مزید تیزی سے دوبارہ پھیل سکتا ہے اور مقامی قدرتی نظام کو پہلے سے زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔


بڑے پیمانے پر کٹائی کے خطرات

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر فاریسٹ محمد ابراہیم خان کے مطابق بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب درخت اچانک اور وسیع پیمانے پر ہٹائے جاتے ہیں تو زمین کی اوپری سطح متاثر ہوتی ہے، نچلی سطح پر موجود پودے ختم ہو جاتے ہیں اور شہری جنگلی حیات اپنی پناہ گاہوں سے محروم ہو جاتی ہے۔

محمد ابراہیم خان خبردار کرتے ہیں کہ اس عمل کے دوران مقامی درخت بھی غیر ارادی طور پر کٹ سکتے ہیں، جس سے شہر کے قدرتی حسن اور ماحول کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق درخت صرف لکڑی یا سبزہ نہیں بلکہ ایک مکمل قدرتی نظام کا حصہ ہوتے ہیں، جن کی غیر دانشمندانہ کٹائی کئی دہائیوں کے توازن کو بگاڑ سکتی ہے۔

قانونی تقاضے اور صاف شفاف عمل کا سوال  

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کا مؤقف ہے کہ کسی بھی بڑے ترقیاتی منصوبے سے قبل ماحولیاتی اثرات کا جائزہ، یعنی انوائرنمنٹل امپیکٹ اسیسمنٹ (EIA)، قانونی طور پر لازمی ہونا چاہیے۔ محمد ابراہیم خان کے مطابق یہ عمل صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے شفاف بنایا جانا چاہیے تاکہ عوام اور ماہرین جان سکیں کہ کسی منصوبے کے ماحول پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

ادارے کے مطابق اگر EIA کے نتائج کو سنجیدگی سے لیا جائے تو کئی صورتوں میں متبادل راستے، ڈیزائن یا طریقۂ کار اختیار کر کے درختوں کے نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ترقی بھی ممکن رہتی ہے اور قدرتی ماحول بھی محفوظ رہتا ہے، جو کسی بھی شہر کے لیے دیرپا فائدے کا باعث بنتا ہے۔

مرحلہ وار حکمت عملی اور منصوبہ بندی 

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے پیپر ملبری اور دیگر ماحولیاتی خطرہ پیدا کرنے والے  پودوں کے انتظام کے لیے ایک واضح اور سائنسی حکمتِ عملی تجویز کی ہے۔ اس حکمتِ عملی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر جگہ ایک جیسا فیصلہ کرنے کے بجائے حالات اور ضرورت کے مطابق اقدامات کیے جائیں۔

ادارے کے مطابق جی آئی ایس میپنگ کے ذریعے شہر کے مختلف علاقوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کہاں پیپر ملبری واقعی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے اور کہاں اس کی موجودگی نسبتاً کم ہے۔ اس طریقے سے وسائل کا درست استعمال ممکن ہوتا ہے اور غیر ضروری کٹائی سے بچا جا سکتا ہے۔

ترجیحی علاقے اور  اقدامات

ڈبلیو ڈبلیو ایف کی تجویز کے مطابق اسکولوں، اسپتالوں اور گنجان آبادی والے علاقوں کو ترجیح دی جانی چاہیے، جہاں پولن سے صحت کے مسائل زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ ان مقامات پر زیادہ پولن پیدا کرنے والے نر درختوں کو ہدفی بنیادوں پر ہٹایا جا سکتا ہے، تاکہ صحت کے خطرات میں کمی لائی جا سکے۔اسی طرح وہ علاقے جہاں پیپر ملبری نے مقامی پودوں کو نمایاں طور پر نقصان پہنچایا ہے، وہاں مرحلہ وار thinning اور منصوبہ بند کٹائی کی جا سکتی ہے، بجائے اس کے کہ پورے علاقے کو ایک ہی وقت میں صاف کر دیا جائے۔

دوبارہ اگنے سے بچاؤ اور متبادل شجرکاری

ماہرین کے مطابق پیپر ملبری کو کاٹنے کے بعد اس کی جڑوں کے دوبارہ اگنے کو روکنا نہایت اہم ہے۔ اگر یہ مرحلہ نظرانداز کیا جائے تو چند ہی مہینوں میں یہی درخت پہلے سے زیادہ تعداد میں واپس آ سکتے ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف اس عمل کے لیے سائنسی طریقوں کے استعمال پر زور دیتا ہے، تاکہ مسئلے کا دیرپا حل ممکن ہو۔

ادارے کی تجویز ہے کہ کٹائی کے فوراً بعد مقامی اور ماحول دوست درخت مناسب موسم میں لگائے جائیں۔ یہ درخت نہ صرف مقامی جانداروں کے لیے زیادہ موزوں ہوتے ہیں بلکہ شہری ماحول میں بہتر توازن بھی پیدا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ درخت لگانے کے بعد ان کی باقاعدہ دیکھ بھال کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے، کیونکہ صرف شجرکاری کافی نہیں بلکہ اس کی بقا زیادہ اہم ہے۔


شہری جنگلی حیات اور قدرتی حسن

اسلام آباد کے درختوں میں پرندے، چھوٹے جانور اور دیگر جاندار پناہ لیتے ہیں، جو شہر کی قدرتی شناخت کا حصہ ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق جب درخت اچانک ختم کر دیے جاتے ہیں تو یہ جاندار یا تو نقل مکانی پر مجبور ہو جاتے ہیں یا شہر میں ان کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ شہر کا قدرتی حسن محض ایک جمالیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ شہریوں کی ذہنی صحت، سیاحت اور مجموعی معیارِ زندگی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اس لیے درختوں کے انتظام کو محض ایک تکنیکی یا صحت کا معاملہ سمجھنے کے بجائے ایک جامع شہری پالیسی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

عوامی اعتماد اور  واضح معلومات

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ درختوں کی کٹائی اور شجرکاری سے متعلق معلومات عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں۔ کون سے درخت ہٹائے جا رہے ہیں، کیوں ہٹائے جا رہے ہیں، اور ان کی جگہ کون سے درخت لگائے جائیں گے۔یہ تمام سوالات عوامی اعتماد کے لیے نہایت اہم ہیں۔ماہرین کے مطابق    صاف اور واضح معلومات  نہ ہونے کی صورت میں افواہیں جنم لیتی ہیں اور عوامی ردِعمل شدت اختیار کر سکتا ہے، جو کسی بھی شہر کے انتظامی نظام کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔

متوازن راستے کی ضرورت

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ نہ تو صحت کے مسائل کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ترقیاتی منصوبوں کو مکمل طور پر روکا جا سکتا ہے۔ اصل ضرورت ایک ایسے متوازن راستے کی ہے جس میں صحت، ترقی اور ماحول تینوں کو یکساں اہمیت دی جائے۔

ادارے کے مطابق سائنسی بنیادوں پر، مرحلہ وار اور شفاف طریقے سے کیے گئے فیصلے ہی اسلام آباد کے درختوں، قدرتی ماحول اور شہریوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ اگر اس موقع پر درست سمت کا انتخاب نہ کیا گیا تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے، جو کسی بھی صورت ایک قابلِ قبول قیمت نہیں۔

اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر  یہ بحث دراصل پورے ملک کے لیے ایک مثال بن سکتی ہے کہ کس طرح ماحولیاتی مسائل کو جذبات کے بجائے شواہد، تحقیق اور دانشمندانہ پالیسی کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔