اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی جنگ کے اثرات اور تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جس سے پاکستان بھی شدید متاثر ہوا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی اور کسانوں کے مسائل بڑھا دیے ہیں، قومی وسائل محدود ہیں اور مہنگائی نے دنیا کی طاقتور معیشتوں کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ غریب عوام کا چولہا بجھ گیا ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت نے تین ہفتوں میں 129 ارب روپے خرچ کرکے عوام کو ریلیف دیا ہے۔ کل وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم کے اعلانات پر بھرپور مشاورت کی گئی، جس کے بعد موٹرسائیکل سواروں کو فی لیٹر 100 روپے سبسڈی، گڈز ٹرانسپورٹ کو فی لیٹر 100 روپے سبسڈی، پبلک ٹرانسپورٹ کو ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی اور کسانوں کو 1500 روپے سبسڈی دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریلوے کی اکانومی کلاس کے کرائے نہیں بڑھائے جائیں گے اور اقدامات کا مقصد عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کرنا ہے۔ وزیراعظم نے پیٹرولیم لیوی میں 80 روپے کمی اور پیٹرول کی نئی قیمت 378 روپے مقرر کرنے کا اعلان کیا، جس کا اطلاق ایک ماہ تک ہوگا۔
وزیراعظم نے کابینہ ارکان کو چھ ماہ تک تنخواہ نہ لینے کی ہدایت دی اور کہا کہ دنیا میں پیٹرول کے لیے قطاریں لگیں مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہونے دیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان چاہتا ہے جنگ جلد ختم ہو اور قیام امن کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔