امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ سے گفتگو میں کہا ہے کہ ان کے نمائندے کل شام تک پاکستان پہنچ جائیں گے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئیں گے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس وفد کی قیادت کریں گے۔
امریکی صحافی کے سوال پر کہ آیا وہ خود پاکستان جائیں گے، صدر ٹرمپ نے جواب دیا: "شاید کچھ دن بعد، دیکھیں گے معاملات کیسے آگے بڑھتے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو ایک "بہت اچھی ڈیل" آفر کی گئی ہے اور امید ہے کہ وہ اسے قبول کر لے گا۔
دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں ایران–امریکا مذاکرات اور علاقائی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے موجودہ مسائل کے جلد حل کے لیے مسلسل مکالمے پر زور دیا اور قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان بھی آج ٹیلیفونک رابطہ ہوگا، جس میں مذاکراتی عمل اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ایران نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں گولیاں چلائی گئیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ "خلاف ورزی کے باوجود امید ہے امن معاہدہ ہو جائے گا۔" ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو وہ وہ اقدام کریں گے "جو 47 سال میں کوئی امریکی صدر نہ کرسکا۔"
امریکی میڈیا کے مطابق اے بی سی نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر بھی اس عمل میں شامل ہیں۔