سال 2025: پاکستان میں انسانی حقوق اور آزادیِ اظہار کے لیے ایک سیاہ باب، ایچ آر سی پی کی سالانہ رپورٹ جاری
اسلام آباد ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے سال 2025 کے لیے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں ملک میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال، عدلیہ کی آزادی میں کمی اور شہری حقوق پر بڑھتے ہوئے دباؤ پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزرا ہوا سال بنیادی آزادیوں کے سکڑنے اور عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے احساس کا عکاس رہا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2025 میں حکام سے سوال کرنے اور احتساب کا مطالبہ کرنے کے حق کو بری طرح دبایا گیا۔
قوانین کا غلط استعمال: اختلافِ رائے کو کچلنے کے لیے پیکا (PECA) قانون میں ترامیم، غداری اور انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔
نشانہ بننے والے طبقات: صحافیوں، سیاسی و سماجی کارکنوں اور وکلاء کو دھمکیوں، جبری گمشدگیوں اور نقل و حرکت پر پابندیوں کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کی گئی، جس سے ملک میں خود ساختہ سنسرشپ (Self-censorship) کا ماحول پیدا ہوا۔
ایچ آر سی پی نے 27 ویں آئینی ترمیم کو عدلیہ کی آزادی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔
انتظامیہ کا اثر و رسوخ: رپورٹ کے مطابق اس ترمیم نے عدالتی تقرریوں میں انتظامیہ کے مداخلت کو بڑھا دیا ہے، جس سے 'اختیارات کی تقسیم' کا توازن بگڑ گیا۔
سیاسی فیصلوں پر سوالات: شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل اور پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کو مخصوص نشستوں سے محروم کرنے جیسے اقدامات پر رپورٹ میں شدید تنقید کی گئی ہے، جنہیں جمہوری گنجائش کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان سیکیورٹی بحران سے سب سے زیادہ متاثر رہے۔
انسانی جانوں کا زیاں: عسکریت پسندی اور جوابی کارروائیوں میں بڑی تعداد میں شہری اور سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے۔
انسدادِ دہشت گردی ایکٹ: 1997 کے ایکٹ میں ترامیم کے تحت فورسز کو کسی بھی شخص کو بغیر الزام کے تین ماہ تک حراست میں رکھنے کا اختیار دیا گیا، جسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں خواتین، بچوں، مذہبی اقلیتوں اور ٹرانس جینڈر افراد پر ہونے والے تشدد اور امتیازی سلوک کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ:
مزدوروں کے حقوق: کان کنوں اور صفائی کے کارکنوں کے لیے کام کے غیر محفوظ حالات اور آئے روز ہونے والے حادثات پر تشویش ظاہر کی گئی۔
موسمیاتی تباہی: گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہونے والی تباہی اور حکومت کے غیر تسلی بخش طویل مدتی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
تاریک پہلوؤں کے باوجود رپورٹ میں چند اہم مثبت اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے:
نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز ایکٹ کا نفاذ۔
اسلام آباد اور بلوچستان میں کم عمری کی شادی کی ممانعت کے قوانین۔
اعلیٰ عدالتوں کے خواتین کے حقِ وراثت اور نکاح سے متعلق اہم فیصلے جو ان کے حقوق کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔