کراچی: بلوچستان سے سندھ کے رہائشی سعید احمد میمن کے مبینہ اغوا کے خلاف اہلِ خانہ، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنان اور شہریوں نے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے حکومتِ پاکستان، حکومتِ سندھ، حکومتِ بلوچستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ سعید احمد میمن کو فوری طور پر بازیاب کر کے اہلِ خانہ کے حوالے کیا جائے۔
مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر بازیابی کے حق میں نعرے درج تھے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ دن دہاڑے ایک شہری کا مبینہ اغوا نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ اس نے اہلِ خانہ کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق 17 مئی کو سابق ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سندھ اور سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عبدالحمید میمن کے بھائی سعید احمد میمن اپنے بیٹے مصور احمد میمن اور دوست عماد کے ہمراہ کوئٹہ سے کراچی واپس آ رہے تھے۔ ضلع سوراب بلوچستان کے زہری ناکہ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روک کر سعید احمد میمن کو اپنے ساتھ لے گئے۔ تاہم مصور احمد میمن اور عماد فرار ہو کر فوری طور پر سوراب تھانے پہنچے اور واقعے کی اطلاع دی۔
اب تک حکومتِ سندھ، حکومتِ بلوچستان اور متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ مظاہرین نے کہا کہ ادارے واقعے سے آگاہ ہیں لیکن سعید احمد میمن کی بازیابی کے حوالے سے کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنان نے زور دیا کہ شہریوں کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس نوعیت کے واقعات عوام میں خوف و ہراس پیدا کرتے ہیں۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان اور سندھ کے درمیان سفر کرنے والے شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔