کراچی،عرفان علی
کراچی میں
پراپرٹیز کا سروے کر کے اس کی ڈجیٹلائزیشن
کا فیصلہ۔ کے ایم سی اور ڈی ایم سیز ٹیکس وصولی کریں گے۔ وزیراعلی
کہتے ہیں دوبار ہ سروے سے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی تین اعشاریہ چھ تین ارب تک پہنچ سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ
مراد علی شاہ کی زیر صدارت
کلک پروجیکٹ پر اجلاس میں پراپرٹی سروے
پر غور ہوا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ
2001 میں کراچی میں 8 لاکھ پراپرٹیز ایکسائز
اینڈ ٹیکسیشن میں رجسٹر تھیں جبکہ اس وقت رجسٹرڈ یونٹس کی تعداد 947424 ہے۔ اگر دوبارہ سائنٹیفک طریقے سے سروے کیا جائے تو پراپرٹیز کی تعداد 2
ارب ہوجائے گی۔20-2019 میں کراچی
سے پراپرٹی ٹیکس کی مد
میں 1 ارب 72 کروڑ کی وصولی کی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ دوبارہ سروے کرنے سے
پراپرٹی ٹیکس کی وصولی 111 فیصد
اضافے سے 3 ارب 63 کروڑ روپے تک ہوجائے گی۔
سندھ حکومت نے پراپرٹی ٹیکس وصول کرنے کا اختیار کے ایم سی
اور ڈی ایم سیز کو دینے کا فیصلہ کیا۔ وزیر بلدیات، وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن
اور چیف سیکریٹری بیٹھ کر فیصلے پر عمل درآمد کرائیں گے۔ وزیراعلیٰ
سندھ نے کلک ٹیم کو سافٹ ویئر بنا کر سروے
کرنے کی ہدایت بھی کی۔ سروے کے بعد لوکل باڈیز کے متعلقہ عملے کو تربیت دی جائے تاکہ وہ ریکوری
شروع کریں ۔