تھر، نسیم اختر شیخ
صحرا کا سفر اپنے اندر
ایک عجیب سی کشش رکھتا ہے اور میں اس کیفیت کو لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔
گذشتہ دنوں ایک بہت ہی عزیز اور پیارے دوست کی میزبانی میں تھر کا حسین وزٹ کرنے
کا موقع ملا۔
ابر باراں ، سبزہ سے ڈھکے
پہاڑوں کے دلفریب مناظر اور گرم جوش مہمان نوازی نے طویل سفر کی تھکان کو جیسے
یکدم ختم کر دیا۔
تھری زندگی سیاحوں کے لیے
مہم جوئی سے بھری ہوئی ہے جو مقامی ثقافتوں ، روایات اور طرز زندگی کو دریافت کرنے
کے لیے جستجو رکھتے ہیں ۔ صحرا کے کچھ طلسماتی مناظر میں سورج طلوع اور سورج غروب
ہونے کے مناظر بھی شامل ہیں جو اونٹ کے کارواں کے اوپر سے دیکھے جا سکتے ہیں، چرنے
والے ریوڑ ، کانٹے دار جھاڑیوں والے بڑے اور چھوٹے ریت کے ٹیلے ، روایتی لباس اور
خواتین کے زیورات ، لوک گیت " کھڑی نیم کے نیچے " بیابان میں جشن کاسماں
باندھ دیتےہیں۔
سنا تھا کہ تھری ثقافت
کسی حد تک گجراتی ، راجستھانی اور سندھی ثقافت کا مرکب ہے۔ تاہم راجستھانی ثقافت
نمایاں نظر آئی اور تھری موسیقی راجستھانی روایتی موسیقی سے زیادہ متاثر ہوتی
دکھائی دیتی ہے تاہم اس کی اپنی آواز اور احساس ہے۔
سب سے اچھی بات یہ لگی کہ
مقامی لوگ بہت ایماندار ،محنتی اور بہت مہمان نواز ہیں۔ خاص طور پر وہاں کی خواتین
کو بہت محنتی اور جفا کش پایا۔