پاکستان میں دوران حمل پیچیدگیوں کے باعث سالانہ ہزاروں خواتین کی
اموات رپورٹ ہوتی ہیں۔ سندھ میں سالانہ اٹھائیس سو خواتین دوران حمل جان کی بازی
ہار جاتی ہیں۔ مانع حمل کے ذریعے سالانہ سینکڑوں خواتین کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس سال کے دوران آبادی کی
شرح میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
PKG اچھی غذا ، اسکولوں ، صحت ،
انفرا اسٹرکچر سمیت مختلف سہولیات کا تقاضا کرتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق
سندھ کی آبادی پانچ کروڑ سے زائد ہے جو سال 2050 تک 8 کروڑ کے ہندسے سے تجاوز
کرسکتی ہے۔ سندھ میں دوران زچگی سالانہ اٹھائیس سو خواتین انتقال کرجاتی ہیں۔ ماہرین
کے مطابق کانٹراسیپٹیو کا استعمال بڑھایا جائے تو سالانہ 9 سو اموات میں کمی
لائی جاسکتی ہے۔۔
ڈاکٹر عدیلہ خان، پروگرام اینالسٹ
برائے تولیدی صحت۔۔۔پاکستان میں پچپن لاکھ خواتین ایسی ہیں۔۔۔جوچاہتےہوئےبھی
کاونٹرسیپشن کااستعمال نہیں کرپاتیں۔۔۔جس کی وجہ سے یہ خواتین اکثرحاملہ ہوجاتی ہیں۔۔۔اس
ہی دوران انہیں مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے۔۔۔اوران میں سےکئی خواتین وفات پاجاتی ہیں۔۔۔پاکستان
میں گیارہ ہزارپانچ سوخواتین ہرسال وفات
پاجاتی ہیں۔۔۔
اقوام متحدہ کے فنڈ برائے آبادی کی رپورٹ کے مطابق ماؤں کی صحت بچوں
کی اموات کا سبب بھی بنتی ہے،، ہزار
نومولود بچوں میں سے سالانہ ساٹھ بچے بھی انتقال کرجاتے ہیں، کانٹراسیپٹیو کے
استعمال سے سالانہ چونتیس ہزار بچوں کو بچایا جاسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تیزی سے بڑھتی آبادی کے تناظر میں سن 2040 تک ڈھائی
کروڑ نوکریوں کے ساتھ 25 ہزار پرائمری اسکولوں کی ضرورت ہوگی۔ اگلے بیس برسوں میں پچاس لاکھ نئے گھروں کی تعمیر بھی لازمی
کرنا ہوگی۔۔