سندھ ہائی کورٹ نے سندھ گورئمنٹ کے پانچ لاکھ ملازمین کی گروپ انشورنس کی ادائیگی میں تاخیر سے متعلق دائر درخواست پر فریقین کے وکلاءکے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

نزاہت خان نزاہت خان

سندھ ہائی کورٹ نے سندھ گورئمنٹ کے پانچ لاکھ ملازمین کی گروپ انشورنس کی ادائیگی میں تاخیر سے متعلق دائر درخواست پر فریقین کے وکلاءکے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

سندھ ہائی کورٹ نے سندھ گورئمنٹ کے پانچ لاکھ ملازمین کی گروپ انشورنس کی ادائیگی میں تاخیر سے متعلق دائر درخواست پر فریقین کے وکلاءکے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جسٹس صلاح الدین کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سندھ گورئمنٹ کے پانچ لاکھ ملازمین کی گروپ انشورنس کی ادائیگی میں تاخیر سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت کلیم طویل عرصے تک لٹکانے پر اسٹیٹ لائف کے نمائندے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ ڈھائی ارب روپے کی رقم رکھ کر بھی آپ کلیم پر ادائیگیاں نہیں کررہے،اسٹیٹ لائف پر فوجداری مقدمہ ہوسکتا ہے۔ دوران سماعت صوبائی سیکریٹری فنانس کاکہناتھا کہ پانچ ہزار انتقال کر جانے والے ملازمین کے ورثاءکے کلیم زیر التواءہیں۔عدالت کاکہناتھا کہ کلیم کی تصدیق کو طریقہ کار آسان کیوں نہیں بنایا جاتا،درخواست گزار کےو کیل کاکہناتھا کہ دیگر صوبوں میں ریٹائرمنٹ پر ہی پالیسی کی رقم دے دی جاتی ہے،سندھ کے ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کو 65 سال تک کی عمر کا انتظار کرایا جاتا ہے۔