کراچی کے اولڈ سٹی ایریا میں ماضی میں بنائی گئی کئی خوبصوت عمارات اب بھی موجود ہیں۔ جونا مارکیٹ کی تنگ گلیوں میں ایک سو اٹھاون سالہ قدیم ترک مسجد بھی ان ہی میں سے ایک ہے۔ تزین و آرائش کے بعد اس کا نقشہ تو بدل چکا ہے،، لیکن اسے از سر نو تعمیر نا کرکے اس کے وجود کو قائم رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اللہ و اکبر کی صدائیں گونجتی ہیں تو جونا مارکیٹ اور کھجور بازار کے
بیوپاری اور اہل محلہ ترک مسجد کا رخ کرلیتے ہیں
ترک مسجد 1280 ہجری یعنی 1863 سے لی مارکیٹ کے قریب ریور اسٹریٹ پر
قائم ہے ۔
مسجد کی کھڑکیوں سے باہر نظر دوڑائیں تو ماضی کے کراچی کی جھلک دکھائی
دیتی ہے۔ مسجد کمیٹی کے سربراہ بتاتے ہیں کہ مسجد کتنی قدیم ہے ان کو بھی معلوم نہیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس کی عمارت میں تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں
سید اشرف شاہ ، سربراہ مسجد کمیٹی کہتے ہیں کہ جو اس کی پرانی تاریخی
چیزیں تھیں وہ ختم ہوگئی ہیں۔۔۔جیسے اس کی کھڑکیاں دروازےدیواریں تھیں۔۔۔اب اس میں
جدیدیت آگئی ہے۔۔۔ماربل لگ گئے ہیں ۔۔۔پرانی اسٹریکچرختم ہوگیاہے۔۔۔
کہا جاتا ہے کہ کھتریاں مسجد کا نام ترک خلاف کی نسبت سے بعد میں تبدیل
کیا گیا۔
مسجد کے در و دیوار پر نظر دوڑائیں تو اس قدیم طرز تعمیر کی باقیات
دکھائی دیتی ہیں۔ مسجد کی دو منازل بعد میں تعمیر کی گئی ہیں ۔ مسجد کمیٹی کے
سربراہ بتاتے ہیں کہ عبدالمالک ترک یہاں کے آخری ترک امام تھے جو 1970 میں وفات
پاگئے۔ اب ان کی فیملی بھی یہاں سے کوچ کرگئی ہے۔
سید اشرف شاہ، سربراہ مسجد کمیٹی کہتے ہیں کہ بچپن سے ہم اس مسجدکودیکھ رہےہیں۔۔۔ہمارے آباواجدادبھی یہاں رہے۔۔۔انیس سوچالیس میں وہ یہاں آئے۔۔۔بھارت سےآکریہاں پرمستقل سکونت اختیارکی۔۔۔ان کے ٹائم سے ہم اس کودیکھ رہےہیں۔۔۔یہ جومارکیٹ نظر آرہی ہےیہاں پرصرف گھرتھے۔۔۔اب مارکیٹ بن گئی ہے۔۔۔کمپانڈسسٹم تھا پرانےلوگ آباد تھے۔۔۔کھتری برداری یہاں آباد تھی۔۔۔
مسجد کی چھت کے حصے پر 1978 تک اسکول بھی قائم تھا،،، جہاں طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔
مسجد کی تزین و آرائش کے دوران اس کا نقشہ تبدیل ہوا ہے ،، مگر اس کی تاریخی حیثیت
اب بھی برقرار ہے۔