طلاق کی بڑھتی شرح کے پیچھے چھپے خاندانی اور معاشرتی مسائل

فرح خان فرح خان

طلاق کی بڑھتی شرح کے پیچھے چھپے خاندانی اور معاشرتی مسائل




اسلام آباد میں طلاقوں کی شرح میں اضافہ، حالیہ اعدادوشمار کے مطابق ہر گھنٹے میں اوسطاً 38 طلاقیں رجسٹر ہوتی ہیں. اور ہر ماہ 9 ہزار کیسز سامنے آتے ہیں.

2023 میں 85 ہزار طلاق کے مقدمات

2024 میں 91 ہزار اور 2025 میں یہ تعداد ایک لاکھ تک جا پہنچی.

جبکہ روزانہ کی بنیاد پر 30 سے زائد کورٹ میرجز ہوتی ہیں..

اور شادی کے ایک سے تین ماہ کے اندر تقریباً 38 طلاقوں کی درخواست دی گئی..

ابھی یہ صرف اسلام آباد کے اعداد و شمار ہیں جہاں کی کل آبادی 2023 کی. مردم شماری کے مطابق تقریباً 23 لاکھ 63 ہزار 863 ہے..

لیکن اس تعداد سے زیادہ بڑے ہیں وہ حقائق جن سے نظریں چرانا نہایت آسان ہے.

یوں تو بے شمار کڑوے سچ ہیں لیکن سب سے بڑی حقیقت میں سے ایک سچائی کسی سے اچانک محبت ہو جانا جس کا شکار آج کل کا نوجوان طبقہ بہت جلد ہو جاتا ہے، شادی کا فیصلہ اور پھر ہر مخالفت کے باوجود اسے حاصل کرنا، پھر شادی کے بعد سمجھ آنا کہ یہ تو وقتی اور جذباتی لگاؤ تھا، دوسرے شخص کے بارے میں یہ تو دیکھا اور سوچا ہی نہیں تھا. 

خواتین اور مردوں کی بڑھتی عمروں پر خاندانی اور معاشرتی دباؤ.. 

برادری اور رشتہ داروں میں اندھے اعتماد پر طے کیے گئے رشتے.. 

دونوں فریقین یا خاندانوں میں سے ایک یا دونوں کے ناقابل برداشت جھوٹ اور خود کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے جیسی چالبازی.. 

لڑکے یا لڑکی والوں کی بڑے پیمانے پر ڈیمانڈ، اور شادی کے بعد بھی حاصل وصول کچھ نہ ہونے پر طلاق تک آتی نوبت...

بے روزگاری اور مہنگائی، سخت دفتری پالیسیاں، ختم ہوتے کاروبار اور نوکریوں کے مسائل 

پڑھی لکھی لڑکی کے ساتھ شادی کے فوراً بعد ملازمین جیسا سلوک اور گھر گرہستی کے طعنے 

لڑکی یا اس کے گھر والوں کی شادی کے فوراً یا کچھ ماہ بعد الگ گھر کی فرمائش.. 

مرد حضرات کا خواتین پر بے جا جسمانی تشدد.. 

دونوں خاندانوں کے ایک دوسرے پر الزامات اور لڑکی یا لڑکے کو نہ ملنے کی دھمکی.. 

علاوہ ازیں جہیز نہ دینے، کم دینے یا مخصوص اشیاء نہ دینے کے مسائل.. پسند کی شادی نہ ہونے، ساس بہو کے جھگڑے اور جوائنٹ فیملی سسٹم جیسے معاملات شادیوں کی ناکامی اور طلاق کی بہت بڑی وجوہات میں شامل ہیں..

لیکن بدقسمتی سے ان چیختے مسائل پر معاشرے کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی.. 

اور ہم میں سے بیشتر لوگ خود کی اصلاح کے بجائے سارا قصور دوسروں پر ہی تھوپتے ہیں.. 


اور پھر  اس کے بعد آتے ہیں اس سے بھی زیادہ گھمبیر مسائل. جن میں خاندانی سطح پر گھر والوں کا لڑکی کو طلاق کے بعد قبول نہ کرنا جیسے معاملات جو پاکستان میں ایک بہت بڑی حقیقت ہے.

اور یہی معاملات جنم دیتے ہیں ایسے خواتین و حضرات کو جو اولاد ہو جانے کی صورت میں بچوں کو اکیلے پالتے نظر آتے ہیں. طلاق یافتہ اکیلی خواتین نوکریوں کی تلاش میں در در ٹھوکریں کھاتی ہیں اور لوگوں کے طعنوں اور برے سلوک کا نشانہ بنتی ہیں. اور مرد حضرات کیلئے بھی دوسری خاتون تلاش کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا. 

 اس کے باوجود بھی خواتین و مرد طلاق جیسے  اقدامات اٹھانے پر مجبور ہیں. کیونکہ فی الوقتی اس ناقابلِ برداشت رشتے سے نکلنے کا کوئی حل انہیں نظر نہیں آتا.

لیکن یہ ہر کوئی بھول جاتا ہے کہ شادی کے بعد رشتہ ازدواج میں بندھے دو لوگوں کو ہی سب سے زیادہ سمجھداری کی ضرورت ہوتی ہے اور طلاق کے بعد بھی.