سپریم کورٹ کراچی میں صوبے بھر کی زمینوں کا ریکارڈ کمپوٹرائزڈ کرنے
سے متعلق سماعت کے دوران سنئیر ممبر بورڈ آف ریونیو سندھ و دیگر حکام عدالت میں پیش
ہوئےاور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی جانب سے زمینوں کا ریکارڈ کمپوٹرائزڈ کرنے
سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔
سپریم کورٹ کراچی میں صوبے بھر کی زمینوں کا ریکارڈ کمپوٹرائزڈ کرنے
سے متعلق سماعت کے دوران سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی جانب سے زمینوں کا ریکارڈ
کمپوٹرائزڈ کرنے سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ صوبے بھر کی زمینوں کا 95 فیصد ریکارڈ
کمپوٹرائزڈ کرلیا گیا ہے، تمام ریکارڈ بورڈ آف ریونیو کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب
ہے
کوئی اس ریکارڈ میں اب ردوبدل نہیں کرسکتا ہے رپورٹ میں زمینوں کی
پانچ لاکھ انٹریز کو مشکوک قرار دیا گیا ہے دو سو 37 زمینوں کی انٹریز کو بلاک کیا
گیا ہے
عدالت کا سندھ ریونیو کو تمام قبضے ختم کرانے کا حکم دےدیا چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ابھی بھی
بڑے پیمانے پر ریونیو اراضی پر قبضے ہیں عدالت کو بتایا جائے کراچی میں ریونیو کی
کل کتنی اراضی پر قبضے ہیں، ریونیو ریکارڈ میں 2 لاکھ سے زائد مشتبہ انٹریز پر بھی
کارروائی کی ہدایت کی گئی عدالت نے استفسار کیاکہ سندھ پبلک پراپرٹی ریموول آف
انکروچمنٹ کا تو کوئی کردار ہی نہیں،
عدالت کا اینٹی انکروچمنٹ سیل کو فعال بنانے کا حکم دیا گیا کہ
سرکاری اراضی پر جہاں بھی قبضہ ہو، خالی کرایا جائے، سندھ بھر کے
تمام ڈپٹی کمشنرز کو فوری کارروائی کی ہدایت عدالت کا کے پی کے کا ریکارڈ بھی کمپیوٹرائزڈ
کرنے کی ہدایت
سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بلوچستاں نے پیش رفت
رپورٹ جمع کرا دی سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بلوچستاں سے عمل درآمد رپورٹ طلب
عدالت کا بلوچستان حکومت کو بھی اراضی ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کا حکم دے دیا
عدالت نے ریونیو کیس کی سماعت آیندہ سیشن کے لیے ملتوی کردی