آرٹس کونسل پاکستان، کراچی کی جانب سے معروف گلوکار جواد احمد کے ساتھ ورکشاپ کا انعقاد

نزاہت خان نزاہت خان

آرٹس کونسل پاکستان، کراچی کی جانب سے معروف گلوکار  جواد احمد کے ساتھ  ورکشاپ کا انعقاد

آرٹس کونسل پاکستان، کراچی کی جانب سے معروف گلوکار  جواد احمد کے ساتھ  ورکشاپ کا انعقادکیاگیا۔ آرٹس کونسل کی میوزک اینڈ تھیٹر اکیڈمی کے طلباءنےشرکت کی۔گلوکار جواد احمد نے زندگی کے تجربات  سےحاضرین  کو آگاہ کیا۔

معروف گلوکار  جواد احمدکاکہنا تھا کہ اُن کا میوزک سے  بہت گہرا تعلق ہے۔سولو پرفارم کرتےہوئے20 سال ہو گئے۔شروع میں   بہت مشکلات ہوئیں۔

 اُس وقت ایک پی ٹی وی تھا ۔کیسٹس اور سی ڈیز بکتی تھی۔کوئی یوایس بی اور انٹرنیٹ  اور سوشل میڈیا نہیں تھا۔اگرآپ نے ریکارڈنگ کمپنی والے سے دوستی کرلی اور محنت کی جو کرتا رہاہوں

جواداحمد نے کہاکہ  میوزک سوسائٹی بنائی اور اسے کامیابی سے چلایا۔اُس وقت صرف تین ہی بینڈز تھے۔ کوئی اگر کچھ کرنا چاہے اسے کرنے نہیں دیا جاتا۔

میرے سے زیادہ اچھے گانےوالے پاکستان میں اُس وقت جب میں گارہاتھا لاکھوں ہونگےیہ صرف ویل پلیس ہونے کی بات ہوتی ہے۔ اب جو بیچارہ سکھر نوابشاہ میں پیداہوتا ہے۔اُسے نہ اسٹوڈیوز ملیں گے

معروف گلوکار کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعت  بنانے کا مقصد غریب عوام کو ان کے حقوق سے آگاہی  دلانے کے ساتھ  ان کے طرز زندگی  میں بہتری لانا تھا۔