سندھ کے محکمہ ثقافت کی طرف سے پانچ روزہ مجسمہ سازی کی نمائش کا آخری روز، سو سے زائد فنکاروں کے مجسمے نمائش میں رکھے گئے تھے

عمران عمران

سندھ کے محکمہ ثقافت کی طرف سے پانچ روزہ مجسمہ سازی کی نمائش کا آخری روز، سو سے زائد فنکاروں کے مجسمے نمائش میں رکھے گئے تھے

سندھ کے محکمہ ثقافت کی طرف سے پانچ روزہ مجسمہ سازی کی نمائش کا آخری روز، سو سے زائد فنکاروں کے مجسمے نمائش میں رکھے گئے تھے، صوبائی وزیر ثقافت نے بھی شرکت کر کے حوصلہ افزائی کی،

کراچی کی لیاقت نیشنل لائبرری میں قائم سمبارا آرٹ گیلری میں لگی نمائش کا آخری روز، "تراش" نامی پہلی مجسمہ سازی کی نمائش میں سندھ کے سو سے زائد مجسمہ سازوں کے فن پارے رکھے گئے تھے ۔۔۔


وزیر ثقافت سید سردار شاہ کا کہنا تھا کہ سنیئر اور نوجوان فنکاروں کو یکجا کرنے کا مقصد معاشرے میں فن و ثقافت کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے ۔۔۔

صوبائی وزیرثقافت سندھ  کہتے ہیں کہ محکمہ ثقافت سے تقریبا سوآرٹسوں کوبلاکریہ کام انجام دیاہے۔۔۔اورہم اس کاسلسلہ جاری رکھیں گے۔۔۔کیونکہ ان کوکون پرموٹ کرےگا۔۔۔سرکاری سطح پرکوئی آرٹ گیلری نہیں یہ پہلی آرٹ گیلری ہے۔۔۔جوحکومت کی ہے۔۔۔ہرجگہ پرآرٹس کو کام پیش کرنےکےلیےپیسےدینےپڑتےہیں۔۔۔لیکن یہاں یہ مفت ہے۔۔۔

ستائیس اکتوبرسےجاری نمائش کوحاضرین نےخوب سراہا۔۔۔شرکاء کاکہناتھاکہ نمائش میں موجودہرفن پارہ شاہکارہے۔۔۔

شیزاعلی کہتے ہیں کہ دراصل میں نے اپنے کام میں مکینزیم کااستعمال کیاہے۔۔۔جوبجلی کی پیدوارکی طرزپرہے۔۔۔اس لیے میرا کام موومنٹ پرہے۔۔۔

طیبہ آصف کہتی ہیں کہ  فائبرگلاس پرکام کرتی ہوں۔۔۔یہاں پرجوکام رکھاگیاہےوہ مختلف بنیادوں پررکھاگیاہے۔۔۔انکی تھیم مختلف ہے مواد مختلف ہے۔۔۔اورمیڈیم مختلف ہے۔۔۔

نمائش کو سینئر آرٹسٹ منصور زبیری کیوریٹ  کر رہے تھے۔۔۔عبدالجبار گل، نادر جمالی، اسد حسین،تہمینہ سومرانی، رابیعہ زبیری، فہیم راؤ اور سید منور شاہ سمیت دیگر مصوروں کے مجسمے نمائش میں رکھے گئے۔۔۔