کراچی پریس کلب کے
سینئرممبر اور کرائم رپورٹرزایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری راجہ طارق کی صحافتی شعبہ
کے لئے خدمات قابل قدر ہیں، ان کی جدوجہد اور سچ بولنے اور لکھنے کے عمل کو ہمیشہ
یاد رکھا جائے گا، ان کے انتقال سے صحافتی برادری بہترین دوست اور ایک کہنہ مشق صحافی
سے محروم ہو گئی ہے۔
ان خیالات کا اظہار سینئرصحافی محمود
شام،پروفیسرتوصیف احمدخان،کراچی پریس کلب کے صدرفاضل جمیلی،سیکرٹری محمدرضوان
بھٹی،کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدرراشدعزیز،سابق سیکرٹریز کراچی پریس کلب
اے ایچ خانزادہ،مقصودیوسفی،عامرلطیف،سابق صدر کے پی سی امتیاز خان فاران ،سی آراے
کے صدر سمیرقریشی،سینئرصحافی انورسن رائے،سیدافضال محسن،سیدحسن عباس ودیگرنے گزشتہ
روزکراچی پریس کلب میں راجہ طارق کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تعزیتی ریفرنس میں راجہ طارق کے اہل خانہ نے
خصوصی شرکت کی۔
اس موقع پر مرحوم کیلئے دعائے مغفرت بھی کی گئی
جبکہ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔
تعزیتی ریفرنس میں مرحوم
راجہ طارق کی صحافتی شعبہ میں پیشہ ورانہ قدر گراں خدمات کو سراہتے ہوئے صحافی
برادری کیلئے ایک مثال قرار دیا گیا۔
مقررین نے کہا کہ راجہ
طارق کی زندگی اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، صحافتی شعبہ میں ان کی
خدمات اور جدوجہد ہمارے لئے مشعل راہ ہے ،راجہ طارق تادم ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ راجہ طارق صحافتی شعبہ کا ایک
اہم اثاثہ تھے جن کی صحافتی خدمات قابل ستائش ہیں۔مقررین نے کہاکہ راجہ طارق
انتہائی خوش اخلاق اور سادہ انسان تھے، انہوں نے کم عمری سے ہی سخت محنت اور
جدوجہد کر کے صحافت میں بڑا نام کمایا اور آخری وقت تک اسی لگن سے کام کرتے رہے-
مرحوم سچے اور پیار محبت
کرنے والے انسان تھے۔ انہوں نے ہمیشہ حق وسچ کی بات کی ۔مقررین نے کہا کہ راجہ
طارق کی زندگی صحافیوںکے لیئے ایک مشعل راہ ہے اور حالات کیسے بھی ہوں اپنے شعبے
کے ساتھ ایمانداری اور لگن آپ کو ایک کامیاب صحافی بناتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ راجہ طارق
کے جانے کے غم میں صحافی برادری اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ اس گہرے دکھ میں برابر
شریک ہیں۔
صحافت ایک ایسا شعبہ ہے اس سے وابستہ لوگ خبر کی
تلاش اور قوم کو باخبر رکھنے میں اپنی پوری زندگی گزار دیتے ہیں مگر ان کی خدمات
کا صلہ صحیح معنوں میں نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم راجہ طارق کو شاندار الفاظ
میں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے قلم کی پاسداری قائم رکھی اور قابل
ستائش بات یہ ہے کہ پریس کلب نے ان کے لئے تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا۔تعزیتی
ریفرنس سے مرحوم راجہ طارق کی صاحبزادی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد
ایک شفیق اور انسان دوست شخصیت تھے جن کی کمی ہمیشہ رہے گی۔

اس موقع پر راجہ طارق بیٹی اور کے قریبی ساتھیوں
نے ان کے ساتھ گزرے اچھے لمحات کو یاد کیا اور انکی زندگی کے اہم پہلوئوں پر بھی
روشنی ڈالی۔
کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے مرحوم راجہ طارق
کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے انہیں ہمیشہ اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔