سندھ میں کورونا کے مزید ایک ہزار چار سو گیارہ کیسز سامنے آگئے۔ چھ سو سڑسٹھ کا تعلق کراچی سے ہے۔کراچی میں
مثبت کیسز کی شرح اکیس اعشاریہ سات نو فیصد رہی۔ضلعی وسطی میں ایس او پیز کی
خلاف ورزی پر سو سے زائد دکانیں سیل۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے پی ایس ایل کے دوران اسٹیڈیم میں
ایس او پیز کی صورتحال خطرناک قرار دے دی۔
وزیراعلی سندھ کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹے میں صوبے میں کورونا کے چودہ سو گیارہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے چھ سو سڑسٹھ کا تعلق کراچی سے ہے۔اب تک صوبے میں پانچ لاکھ،
چالیس ہزار، چھ سو باہتر افراد میں مہلک
وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔سال کے پہلے ماہ
سندھ میں انسٹھ ہزار آٹھ سو سینتالیس
جبکہ کراچی میں اڑتالیس ہزار پانچ سو
ستانوے کیسز رپورٹ ہوئے۔ چوبیس گھنٹے میں کورونا کے مزید آٹھ مریض
انتقال کرگئے۔سال کے پہلے ماہ صوبے میں
کورونا سے ایک سو انسٹھ اموات ہوئیں۔ اب تک مہلک وائرس سات ہزار آٹھ سو انیتس افراد کی جان لے چکا
ہے۔ اس وقت تین سو چھیانوے مریضوں کی حالت تشویشناک اور انتیس وینٹی لیٹر پر ہیں۔
محکمہ صحت سندھ کےمطابق کراچی میں گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران کورونا مثبت کیسز کی شرح اکیس اعشاریہ سات نو فیصد رہی۔کراچی کے ضلع وسطی میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزیوں پر ضلعی انتظامیہ کی کارروائی ۔اسسٹنٹ کمشنر گلبرگ نے
عائشہ منزل پر الیکٹرانکس مارکیٹ اور ایف بی ایریا بلاک چودہ
میں آٹوپارٹس مارکیٹ کی سو سے زائد دکانیں
سیل کردیں۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن
نے کورونا کے مثبت کیسز کی بڑھتی شرح پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ایسوسی ایشن
کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل کے دوران اسٹیڈیم
میں ایس او پیز کی صورتحال خوفناک ہے۔ حکومت بخار کم کرنے کی ادویات کی
مارکیٹ میں دستیابی یقینی بنائے۔