ساٹھ اور ستر کی دہائی میں کراچی کیسا تھا؟اس دور کے لوگ تو شاید شہر کے ماضی سے واقف ہوں،، مگر آج کے نوجوان شاید بہت سی باتیں ناجانتے ہوں۔ شہر کی سنہری یادوں پر مشتمل نمائش،،،، کراچی کے داؤد فاؤنڈیشن گھر میں سجائی گئی ہے۔
کراچی آف دی سکسٹیز اینڈ سیونٹیز ۔۔ دی گرووی ایئرز نامی نمائش شہر کے ماضی کی خوبصورت جھلک پیش کررہی ہے۔ اس نمائش سے آپ شہر کی تاریخ کے اہم ابواب ، ثقافتوں کے ملاپ اور یہاں کے باسیوں کی نصف صدی پہلے کی زندگی کے بارے میں جان سکتے ہیں۔
اس شہر کی نائٹ لائف بہت مختلف تھی۔ساٹھ اور ستر کی دہائی میں شہر میں تیس سے زائد نائٹ کلبز موجود تھے ۔
1968 میں ہوٹل میٹروپول کے سمر نائٹ کلب میں
لائیو آرکیسٹرا سجتا تھا۔بین الاقوامی فنکار یہاں پرفارم کیا کرتے تھے۔
کو کو کو رینا ، اکیلے نا جانا ، دیکھا نا تھا کبھی ہم نے یہ سماں سمیت
ایک سے بڑھ کر ایک سپر ہٹ گیت اس دور میں پروان چڑھتے فلمی میوزک کا خاصہ تھے۔
پاکستان فلم انڈسٹری کے لیے بھی یہ
سنہرادور تھا۔ سنگم ، سوسائٹی گرل ، بیونڈ دی لاسٹ ماؤنٹین اور زندہ لاش جیسی
فلمیں بڑے پردے پر ریلیز کی جاتی تھیں۔ بیمبینو ، رینو ، کوہ نور، نگار، نشیمن اور پرنس سینما سمیت سینکڑوں سینما گھر
شہر کی شان ہوا کرتے تھے۔
جیز اور روک موسیقی سننے والوں کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بلائنڈ فیتھ ، دی اسمیش اور دی راک اسٹاک 75 سمیت کئی بینڈز لائیو کنسرٹس میں پرفارم کیا کرتے تھے۔
ستر کی دہائی میں ہی کریم آباد کا مینا بازار اور صدر کی زینب مارکیٹ
کا قیام بھی عمل میں لایا گیا تھا۔ ایمپریس مارکیٹ اور بوہری بازار تو پہلے ہی یہاں
موجود تھے،،
کوئن الیزبتھ ، دی بیٹلز بینڈ ، جیکولین کینیڈی ، کنگ فیصل سمیت کئی
مشہور شخصیات کب کراچی آئیں ،، یہ سب معلومات آپکو ایک چھت تلے مل سکتی ہے۔
کیا دور تھا کہ جب کراچی کے آئی آئی چندریگر روڈ کو پاکستان کی وال
اسٹریٹ کہا جاتا تھا۔ اس سنہرے دور کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے شہری منگل سے اتوار
صبح 10 بجے سے رات 10 بجے تک ٹی ڈی ایف گھر کا رخ کر سکتے ہیں