کراچی: گرین میڈیا انیشیٹو نے اکاؤنٹبلیٹی لیب کے اشتراک سے ساحلی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ کمیونٹیز کی ڈیجیٹل ڈیزاسٹر میپنگ کے ایک اہم منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد متاثرہ آبادی کے مسائل، خطرات اور ضروریات کو ڈیجیٹل انداز میں دستاویزی شکل دے کر حکومت اور متعلقہ اداروں تک پہنچانا ہے تاکہ بروقت اور مؤثر فیصلے کیے جا سکیں۔
منصوبے کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے رفیع الحق نے کہا کہ کسی بھی ایسے علاقے یا کمیونٹی کے لیے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہو، حکومت یا متعلقہ ادارے اسی وقت مؤثر اقدامات کر سکتے ہیں جب انہیں زمینی حقائق، مسائل کی نوعیت اور ان کی شدت کا درست اندازہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ساحلی علاقوں میں سمندری طوفان، سطح سمندر میں اضافہ، قحط سالی، غیر یقینی بارشیں اور سیلاب جیسے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان اثرات کی وجہ سے ماہی گیروں کے ذرائع روزگار شدید متاثر ہوئے ہیں، سمندر کے کھارے پانی نے زرعی زمینوں کو تباہ کر دیا ہے، ساحلی علاقوں میں مٹی کا کٹاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے جبکہ کمزور اور کچے مکانات سمندری طوفانوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ متبادل ایندھن کی عدم دستیابی کے باعث مقامی آبادی مینگرووز کے جنگلات کاٹنے پر مجبور ہے، جس سے پورا ساحلی ایکو سسٹم خطرے میں پڑ گیا ہے۔ ان کے مطابق مینگرووز مچھلیوں اور جھینگوں کی افزائش کے لیے قدرتی نرسری کا کردار ادا کرتے ہیں، لہٰذا ان کا تحفظ ساحلی معیشت اور حیاتیاتی تنوع کے لیے ناگزیر ہے۔
رفیع الحق نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت علامتی طور پر 10 چھوٹے اور بڑے دیہاتوں کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں مقامی افراد سے ڈیجیٹل سروے فارم کے ذریعے معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ اس سروے میں روزگار، آمدنی، صحت، تعلیم، بنیادی سہولیات اور قدرتی آفات کے اثرات سے متعلق معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تمام ڈیٹا کو ایک لائیو ڈیجیٹل ڈیش بورڈ پر مرتب کیا جائے گا، جو گرین میڈیا انیشیٹو کی ویب سائٹ پر دستیاب ہوگا اور اسے حکومت، پی ڈی ایم اے (PDMA)، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، ریسکیو کے اداروں سمیت دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا تاکہ بہتر منصوبہ بندی اور مؤثر ڈیزاسٹر مینجمنٹ ممکن بنائی جا سکے۔
اس موقع پر شبینہ فراز، چیف ایگزیکٹو آفیسر گرین میڈیا انیشیٹو، نے کہا کہ یہ منصوبہ ساحلی کمیونٹیز کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے تناظر میں بااختیار بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ڈیزاسٹر میپنگ نہ صرف مسائل کی درست نشاندہی کرے گی بلکہ مستقبل میں حکومتی پالیسی سازی، امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے اقدامات کے لیے مستند ڈیٹا بھی فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق گرین میڈیا انیشیٹو کا یقین ہے کہ "ڈیزاسٹر میپنگ ہی مؤثر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی بنیاد ہے۔"
منصوبے کے تحت ضلع ٹھٹھہ کے علاقے کیٹی بندر میں کمیونٹی کے افراد کے لیے خصوصی تربیتی ورکشاپس کا بھی انعقاد کیا گیا۔ گرین میڈیا انیشیٹو کی کمیونیکیشنز آفیسر سعدیہ عبید خان نے شرکاء کوڈیجیٹل موبائل جرنلزم کی عملی تربیت دیتے ہوئے انہیں پیشہ ورانہ انداز میں ویڈیو اسٹوری بنانے کے طریقہ کار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی مسائل کو مؤثر انداز میں دستاویزی شکل دے کر میڈیا، متعلقہ اداروں اور حکومت تک پہنچانا کمیونٹی کی آواز کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ورکشاپ کے آخری سیشن میں ڈسٹرکٹ آفیسر اور آئی ٹی ٹرینر فوزیہ جمیل نے صحافیوں اور کمیونٹی لیڈرز کو ڈیجیٹل ڈیزاسٹر میپنگ ٹولز، سروے کی تکنیکی اہمیت، ڈیٹا کلیکشن کے جدید طریقہ کار اور ویژیول ڈیش بورڈ کے استعمال سے متعلق تفصیلی تربیت فراہم کی۔ انہوں نے شرکاء کو لائیو پریزنٹیشن کے ذریعے ڈیش بورڈ کی تیاری، ڈیٹا کے تجزیے اور اس کے عملی استعمال کا مظاہرہ بھی پیش کیا۔
منصوبے کے اختتام پر منتظمین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے ذریعے حاصل ہونے والا مستند ڈیٹا پالیسی ساز اداروں، ترقیاتی تنظیموں اور میڈیا کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا، جبکہ منصوبے کی تفصیلی رپورٹس اور نتائج جلد عوام اور متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے تاکہ ساحلی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مربوط اور مؤثر حکمت عملی تشکیل دی جا سکے۔