کراچی پولیس کے تفتیشی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ کرلیا گیا ۔

صبانور صبانور

کراچی پولیس کے تفتیشی ڈھانچے میں بڑی  تبدیلی کا فیصلہ کرلیا گیا ۔

کراچی پولیس کے تفتیشی ڈھانچے میں بڑی  تبدیلی کا فیصلہ کرلیا گیا ۔ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن کہتے ہیں کہ کراچی پولیس جلد دو سو پرائیوٹ وکلاء کی خدمات حاصل کرے گی ۔ مجرم کو سزا دلوانے پر تفتیشی افسر اور وکیل کو معقول  انعام بھی ملے گا۔دعویٰ کیا کہ سندھ حکومت نے سفارشات منظور کرلی ہیں۔

اب مجرم قانون کے شکنجے سےبچ نہیں پائیں گے۔۔۔ ایسا دعویٰ ہے کہ کراچی پولیس چیف غلام  نبی میمن کا،جن کا کہنا ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث  ملزموں کے خلاف مضبوط کیسز بنانے اور انہیں عدالتوں سے سزا دلوانے کے لئے نیا منصوبہ شروع کیا جارہا ہے ۔

کراچی پولیس چیف کا کہنا ہے کہ  محکمے میں تفتیش کے ماہر 76افسران  کا انتخاب کرلیا ہے۔جلد کراچی پولیس قابل اور تجربہ کار دو سو  پرائیوٹ وکلاء کی خدمات بھی  حاصل کرنے جا رہی ہے ۔ایڈیشنل آئی جی کراچی  کہتے ہیں  پراسیکیوٹر جنرل سندھ کی سربراہی میں پانچ رکنی ٹیم وکلاء کے انٹرویوز کرے گی، وکالت میں پانچ سال سے زائد تجربہ رکھنے اور کم از کم  دس کیسز میں سزادلوانے والے وکلاء کو ترجیح دی جائے گی۔

پولیس چیف کے مطابق مختلف نوعیت کےسنگین جرائم کو نو کٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے اور  منصوبے کے تحت ابتدائی مرحلے میں گیارہ سو ہائی پروفائل کیسز پر کام کیا جائے گا جن میں ڈکیتی کے دوران قتل یا زخمی کئےجانے کے ساتھ ریپ کے کیسز سرفہرست ہوں گے۔ کیس میں ملزم کو سزاہوجانےپر وکیل کوپانچ لاکھ جبکہ  تفتیشی افسر کو ایک لاکھ روپے انعام  بھی ملے گا

کراچی پولیس چیف کا دعویٰ ہے کہ تفتیشی افسران کے ناموں سمیت منصوبے سے متعلق تمام سفارشات حکومت  سندھ کو بھیجی تھیں جنہیں منظور کرلیا گیا ہے۔۔۔ ایڈیشنل سیکریٹری لاء اور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن سمیت دیگر ارکان پر مشتمل 5 رکنی ٹیم وکلاء کا انتخاب کرے گی اور منصوبے پر سالانہ 63 کروڑ روپے اخراجات آئیں گے۔