کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی شرح میں کمی کی بجائے ایک بار پراضافہ ہوگیا ۔
مئی 2023 کے دوران موٹرسائیکل چھیننے کی وارداتوں کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔
گذشتہ سال مئی کی نسبت 63 فیصد موٹرسائیکلیں زیادہ چھینی گئیں۔
واں سال کے 5 ماہ میں اسٹڑیٹ کرائم کی وارداتیں 36ہزار 9سو سے زائد ہوگئیں۔
کراچی میں غریب کی سواری پر مئی پڑا بھاری۔۔۔ پولیس کی پھرتیاں۔
تابڑ توڑ ناکے اور چھاپے بھی کراچی والوں کو اسٹریٹ کرائم سے نجات نہ دلا سکے
مئی 2023 کے دوران شہر میں ہونے والے اسٹریٹ کرائم سے متعلق سی پی ایل سی ریکارڈ نے خطرے کی گھنٹی بجادی ۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ رواں سال مئی کے مہینے میں شہر کی سڑکوں پر 623 شہریوں کو اسلحہ دکھا کر موٹرسائیکلیں چھین لی گئیں۔
مئی دو ہزار بائیس میں ان وارداتوں کی تعداد 383 تھی ،رواں سال مئی میں موٹرسائیکل چھیننے کی وارداتوں میں63 فیصد اضافہ ہوگیا ۔
صورتحال صرف اسی حد تک خراب نہیں بلکہ قتل و غارتگری کے واقعات میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا،صرف مئی کے مہینے میں 15 شہریوں کو دوران لوٹ مار ڈاکؤوں نے قتل کیا۔
اسی ماہ شہریوں کی4ہزار 525 موٹرسائیکلیں اور 147 گاڑیاں چوری بھی کی گئیں جبکہ اسلحے کے زور پر ہی 2ہزار 459 موبائل فونز اور 18 گاڑیاں بھی چھین کر لٹیرے فرار ہوئے۔
ادارہ سی پی ایل سی کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ مئی کے مہینے میں اسٹریٹ کرائم کی مجموعی طور پر 7ہزار772 وارداتیں رپورٹ ہوئیں جبکہ سال 2023 کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران وارداتوں کی مجموعی تعداد مسلسل اضافے کے ساتھ 36 ہزار 943 تک جا پہنچی ہے۔