وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر ایم کیو ایم حتمی فیصلہ نہ
کرسکی۔۔کنونیئر ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے پیپلزپارٹی اور ن لیگ سے
گلے شکوے بھی کئے ۔ مذاکرات کرنے لئے کارکنوں سے اجازت بھی طلب کی۔کہا ہم کسی
اقتدار کی لالچ میں نہیں اپنے مطالبے اور شناخت کے لئے ملاقاتیں کررہے ہیں ۔
وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کا معاملہ۔۔
ایم کیو ایم کا جنرل ورکر اجلاس۔۔۔۔
کنوئینر ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے کہا پیپلزپارٹی نے
اپنے دور حکومت میں کراچی کو نظر انداز کرکے ہمارے لئے کوئی آپشن نہیں چھوڑا۔۔۔ہم
وزیر اعلی ہاؤس اپنے مطالبے کے لئے گئے۔ جواب میں آنسو پوچھنے کے بجائے آنسو گیس کی
شیلنگ کی گئی۔ ڈنڈے برسائے گئے۔۔اب ان کا وقت آیا تو کہتے ہیں بات سنے گے
کراچی حیدرآباد میرپور خاص سکھر یہاں کے رہنے والوں کے پاس حکمرانی
ہوگی اس سے کم کسی بات پر تیار نہیں ہوا جائےگا
خالد مقبول صدیقی نے کہا ایم کیو ایم حکومت میں شامل جمہوریت بچانے
کے لئے ہوئے۔۔اب بھی جمہوریت ہی بچائیں گے۔۔ہم اقتدار کے حصول کے لئے نہیں اپنے
مطالبات اور شناخت کے لئے رابطہ کررہے ہیں کارکنان رابطہ کمیٹی کو اجازت دیں
موجودہ سیاسی صورت حال میں کیا فیصلہ کیا جائے
خالد مقبول صدیقی نے کہا اگر ہماری بات سنی جائے گی تو سنائیں گے مانی
جائے گی تو منوائیں گے بصورت دیگر ووٹ فیصلہ نہ کرسکا تو سڑکیں کھلی ہیں