پاکستان مسلم لیگ ن کی
نائب صدر مریم نواز نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہےکہ حکومت پاکستان سے اپیل کرتی ہوں، ایک بورڈ بنائیں جو
عمران خان کا دماغی اور نفسیاتی معائنہ کرے
ان کاکہناتھاکہ ایسے شخص کا پاکستان کے اندر کھلے عام
گھومنا خطرے سے خالی نہیں اور
میں نے اقتدار کی خاطر کسی شخص میں اتنی بے چینی نہیں دیکھی
جتنی اس شخص کو ہے۔
مریم نواز نےکہاکہ اس کرسی کے چلے جاتے پر وہ اتنا دل گرفتہ
ہے، جو کرسی اس کی تھی ہی نہیں
اس نے غیر آئینی طریقے سے غیر سیاسی طور پر مینڈیٹ چھینا
تھا،
وہ آئینی طریقے سے اس سےلیا گیا،
اس ناکامی کا ملبہ میرے ملک پر ڈالنے کو تیار ہے اور
اس نے کہا یہ ملک خدانخواستہ 3 ٹکڑوں میں بٹ جائے گا،
عمران خان کا کھلے عام گھومنا خطرے سے خالی نہیں۔ انکا کہناتھاکہ
کرسی چلے جانے سے عمران خان حواس باختہ ہوچکے ہیں
عمران خان اس منڈیٹ کے پیچھے سوگ منا رہے ہیں جو ان کا کبھی
تھا ہی نہیں
کیا یہ گولڈ سمتھ یا اسرائیل کا ایجنڈا ہے
پہلے کشمیر اب پاکستان کے 3 ٹکڑوں کا کہہ رہے ہین
انشااللہ پاکستان کا نقصان نہیں ہوگا،
ملک کے 3 ٹکڑے کرنے والے کی جماعت کے 3 بلکہ300 ٹکڑے ہوں
گے،
نواز شریف 3 بار اقتدار سے نکالے گئے، انہوں نے 2 بار جلا
وطنی برداشت کی،
نواز شریف کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال کر جہاز کی سیٹ سے
باندھا گیا،
اس کی بیٹی کو اس کی نظروں کے سامنے گرفتار کے ڈیٹھ سیل میں
پھینکا گیا
نواز شریف کی ہر بار آواز آئی پاکستان زندہ باد،
پیپلز پارٹی پر بھی مشکلات آئیں لیکن آواز آئی پاکستان
کھپے،
کبھی کسی سیاسی جماعت نے ملک کے تین ٹکڑے ہونے کا بیان نہیں
دیا،
آپ کی سیاست یہ ہے کہ آپ کا اقتدار نہ ہو تو پاکستان کے 3
ٹکڑے ہوجائیں،
ابھی تو عمران خان کو ہاتھ ہی نہیں لگے،
ان کو کسی نے کچھ کہا ہی نہیں
عمران خان نے مینڈیٹ چرایا جو عوام نے اس واپس لے لیا
عمران خان اقتدار کے پہلے تیس دنوں میں ہی ناکام ہوئے
عمران خان کے منہ خاک جو کہتے ہیں کہ ملک کے تین ٹکڑے ہو
جائیں گے
عمران خان بتائیں پاکستان کے تین ٹکڑوں کا ایجنڈا کس کا ہے
عمران خان کبھی کشمیر کبھی پاکستان کے تین ٹکڑوں کے بیان دیتے
ہیں یہ کس ایجنڈے کا حصہ ہے
ملک کے تین ٹکڑے کے خواب دیکھنے والی جماعت کے تین سو ٹکڑے ہونے چاہئیں
ملک کی ہر سیاسی جماعت نے پاکستان کے لیے قید وبند کی صعوبتیں
سہی اپنے پیاروں کی قربانیاں دی اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا
اپ کہتے ہیں میرا اقتدار ہے تو پاکستان زندہ باد پاکستان
کھپے اور نہیں ہے تو اپ پاکستان کو توڑنے کی بات کرتے ہیں
بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا خواب دیکھا تھا تب
عمران خان ملک سے باہر عیاشی کر رہا تھا،
جب نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کیے تب بھی عمران خان ملک سے
باہر عیاشی کر رہا تھا،
آپ کو کس نے حق دیا کہ گندی زبان سے ایٹمی پروگرام پر بات
کریں،
ہم نے بھی فوج پر تنقید کی تھی لیکن ہم نے مثبت تنقید کی،
جب سپہ سالار آپ کے ساتھ تھے تو ٹھیک تھے، جب سے الگ ہوئے
تو وہ میر صادق اور میر جعفر ہوگئے