کراچی میں سپر ہائی وے کے قریب شہر مویشیاں تو آباد ہوگیا مگر بیوپاریوں کو انتظار ہے سنجیدہ خریداروں کا۔
کہتے ہیں منڈی کا رخ کرنے والے منچلے محض دام پوچھ کر چلے جاتے ہیں۔
مناسب دام ملنے پر ہی مویشی فروخت کریں گے۔
مویشی منڈی سج گئی،خوبصورت،
وزنی اور اچھی نسل کے گائے ،بیل بکرے بھی
پہنچ گئے۔
کراچی سپر ہائی وے کی مویشی منڈی میں محض منچلے ہی نہیں بلکہ فیملیز
کی بڑی تعداد بھی صبح شام گھومتی نظر آرہی
ہےمگر اکتفا کیا جارہا ہے محض ونڈو شاپنگ
پر۔
منڈی کا رخ کرنے والے شہری شکوہ کررہے ہیں کہ بیوپاری کئی گنا زائد قیمتیں
طلب کر رہے ہیں جس کے باعث سودا نہیں بن پارہا۔۔
دوسری جانب بیوپاری حضرات کہتے ہیں کہ مویشی منڈی آنے والے بیشتر
شہری ابھی خریداری کے لئے سنجیدہ نہیں، یہی
وجہ ہے کہ جانور کے مناسب دام نہیں
لگاتے یا محض قیمتیں پوچھ کر آگے بڑھ
جاتے ہیں
ایشیاء کی سب سے بڑی مویشی
منڈی کی رونقیں تو بحال ہوچکی ہیں مگر عید قرباں میں کئی روز ہونے کے باعث منڈی میں
فی الحال بھاؤ تاؤ ہوتے نظر نہیں آرہے۔
شہری کہتے ہیں کہ منڈی آکر ونڈو شاپنگ کرنا بھی ان کے لئے کسی تفریح سے کم نہیں ۔