سانولی رنگت ،
چہرے پر محرومی کے آثار، لیکن آنکھوں میں آنے والے کل کی روشنی لیے اپنے پر عزم ارادوں کی فصیل پر چلتے ہوئے رکشہ
چلانے والی اس لڑکی کانام آسیہ ہے جس کی عمر صرف 13 برس ہے۔
عمر چھوٹی ،
کمزور جسم سہی لیکن حوصلے پہاڑوں کی طرح بلند وبالا ہے۔علم سے تبدیلی کا سفر لانے
کےلیے یہ صبح سویرے اٹھ کر اپنے علاقے کی مختلف بچیوں کو رکشہ میں بیٹھا کر اسکول
لیے آتی ہیں۔آسیہ 8 ویں جماعت کی طالبہ ہے۔
تعلیم کےحصول
کے لیے بچوں کو پک اینڈ ڈروپ کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔
آسیہ تھرپارکر
کے گائوں مانسنگ بھیڑکی رہائشی ہیں۔
بھوک ،افلاس ،
لاچاری اور بے بسی کے سوا اس علاقے میں اور کوئی سہولت دستیاب نہیں ، نہ بہترین
تعلیم کے مواقع ، نہ ہی روزگار اور نہ ہی صحت کی کوئی سہولت بس تمام علاقہ مکینوں
کی ایک چیز مشترکہ جو کہ انہیں آپس میں جوڑے رکھتی ہے وہ ہیں انکے معاشی حالات ،
بد حالی کا شکار یہ علاقہ تعلیم و تربیت سے کوسوں دور ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ خواتین
کا یہاں تعلیم حاصل کرنا آسان نہیں بلکہ ناممکن دیکھائی دیتاہے ۔
مقامی تنظیم
تھر فائونڈیشن نے اس علاقے کی لڑکیوں کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے ساتھ انہیں
با اعتماد بنانے کے لیے کوشاں ہے تنظیم نے آسیہ کو رکشہ فراہم کیا جس سے وہ بچیوں
کو گھر سے اسکول لانا اور لے جانا کیا کرتی ہیں۔آسیہ بلامعاوضہ لڑکیوں کو پک اینڈ
ڈروپ کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔
سبین شاہ سی
ایس ایس آر تھر فائونڈیشن کہتی ہے کہ ہمارے ذہن میں ایک ایسا خیال آیا کیوں نہ
ہم ان کے لیے کوئی ایسا کام کردیں جن سے ان کوروزگار بھی ملے اور تعلیم کے راستے
میں حائل رکاوٹیں دور کی جاسکے شام کے اوقات میں آسیہ کے والد رکشہ چلا کر بچوں
کا پیٹ پالتے ہیں ۔ اس طرح سندھ کے اس صحرائی علاقے میں علم کی پیاس بجھانے کاسفر
شروع ہوچکاہے اور یہ سفر ابھی اپنی منزل سے کوسوں میل دور ہے تاہم تھر فائونڈیشن
جیسی تنظیم نے اس جانب پہلا قدم اٹھالیاہے۔