کراچی میں مسلسل بارشوں کے بعد ملیر ندی بپھر گئی۔سیلابی ریلے نے کئی گوٹھوں کو ڈبو دیا۔ نیشنل ہائی وے لنک روڈ پر ڈوبنے والی گاڑی میں سوار ایک بچے کی لاش مل ۔ چھ افراد کی تلاش جاری ہے۔
مون سون کی مسلسل بارشوں کے بعد ملیر ندی بپھر گئی۔سیلابی ریلے نے شفیع محمدگوٹھ،دبئی گوٹھ،سموں گوٹھ سمیت کئی گوٹھوں کو ڈبو دیا۔آج صبح ہوئی نیشنل ہائی وے ،لنک روڈ پر ملیر ندی میں ڈوبنے والی گاڑی کی تلاش کا آپریشن پھر شروع ہوگیا۔ اسپیڈ بوٹس پر ایدھی کے رضاکار وں کو کئی گھنٹوں بعد گاڑی میں سوار دس سالہ بچے موسی کی لاش مل گئی۔ بچے کی لاش گاڑی ڈوبنے کے مقام سے چار کلومیٹر دور ہاشم میر علی گوٹھ کے قریب ندی سے نکالی گئی۔ اسپیشل سیکیورٹی یونٹ کےغوطہ خور بھی تلاش میں معاونت کےلیےپہنچ گئے۔بدقسمت لاپتہ خاندان کراچی میں شادی میں شرکت کےبعد واپس حیدرآباد جانے کے لئے روانہ ہوا تھا۔ دوسری جانب گوٹھوں میں پھنسےدرجنوں خاندانوں کوعارضی طورپرسرکاری اسکول میں منتقل کردیاگیا۔