کراچی میں دودھ کی قیمت نے ڈبل سنچری مکمل کرلی۔

سدرہ پٹیل سدرہ پٹیل

کراچی میں دودھ کی قیمت نے ڈبل سنچری مکمل کرلی۔

 

کراچی میں دودھ کی قیمت نے ڈبل سنچری مکمل کرلی۔

سترہ اکتوبر سے  دکانداروں نے بیس روپے اضافہ کردیا،،

جس کے بعد  شہر میں  دودھ دوسو روپے  لیٹر  فروخت ہورہا ہے۔ ڈیری فارمرزنےاضافی بل بھیجنا شروع کردئے۔

کراچی میں دودھ مہنگا نہیں،، بہت مہنگا ہوگیا۔

 شہرمیں دکانداروں نے ایک کلودودھ کی قیمت 180 سےبڑھاکر200 روپےکلوکردی۔

  کہتےہیں باڑےمالکان نےقیمتوں میں اضافہ کیا

 جس کی  وجہ سےقیمت بڑھائی ہے۔ رواں سال ایک بارنہیں 3 بارقیمت میں اضافہ کیا گیا۔

 پہلےمہنگےچارےکو،،، اور اب سیلاب کی تباہ  کاریوں کو جواز بناکر قیمت بڑھادی گئی۔۔

 

بھائی کافی نقصان ہوچکا ہےکاروبارکا لوگ مہنگائی کی وجہ سےپہلے جو 10من دودھ بکتا تھا اب 5 من پرآیا ہواہے،

 ایسا ہی چل رہا ہےآج باقی یہ ہےکہ باڑےوالوں نےریٹ بڑھادیا ہے

پیچھےسےاب بقول باڑےوالوں سےہمیں پورانہیں پڑرہا ہے

ہم لوگ ہیں ریٹیلیرزہمیں اب پیچھےسےہی مہنگا آرہا ہےتوہم کیا کریں

پہلے 180 روپےتھا پھر200 کیا ہے17 تاریخ سےڈیری فارمرزنےریٹ بڑھایا ہےتوہم نےریٹ بڑھادیا ہے

ابھی ہم جو ہےناں 2 مہینے ہوگئے180 روپےبیچ رہےہیں ہم توخود کہتےہیں دودھ سستا ہوگا توہمارادودھ زیادہ بکےگا

خریداربھی دودھ کی مسلسل بڑھتی قیمت سےپریشان ہیں۔کہتےہیں پرائس مجسٹریٹ ،، اسسٹنٹ کمشنرزسمیت ڈپٹی کمشنرزبازاروں سےغائب ہیں۔ قیمتیں بڑھتی جارہی ہیں جس پرکوئی کنٹرول نہیں۔۔ شہرمیں کہیں 180 توکہیں 200 روپےمیں فروخت ہورہا ہے۔

کمشنرآفس میں نےفون کیا تھا پڑسوں ان سےریٹ کنفرم کیا،، تومیں نےان سےبولا کہ گلشن میں تویہ ریٹ نہیں چل رہا ہےانھوں نےمجھ سےایریا پوچھا 2 دن ہوگئےلیکن ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہورہی

مہنگائی بہت تیز ہےمہنگائی کہیں پہنچنےنہیں دےرہی،، غریب آدمی سےتو کوئی کچھ کھا پی نہیں سکتے،،

یہاں پردودھ دےرہےہیں 180 روپےلیٹراورانڈےدےرہےہیں 240 روپےدرجن

ڈیری فارمرز نے قیمتوں میں اضافہ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔کہتےہیں سیلاب کےباعث جانوروں سمیت چارےکی شدید قلت،،، اور  دودھ کی پیداوارمیں کمی کےساتھ طلب بڑھ گئی ہے،، جس کا اثرمقامی مارکیٹ میں دیکھا جارہا ہے،،

دودھ کی سرکاری قیمت 120 روپےموجودہ کمشنرکراچی محمد اقبال نے دسمبر2021 میں مقررکی تھی

 لیکن ایک روزبھی اس پرعمل نہ ہوسکا۔  ضلع شرقی میں دودھ  کی قیمت میں  اضافےپرڈپٹی کمشنرراجہ طارق سےرابطہ کیا گیا ،،

تووہ دفتری مصروفیت کےباعث آفس میں موجود نہیں تھے۔نہ ہی مؤقف کےحوالےسے بعد میں جواب دیا۔

 یومیہ کراچی کےشہریوں سےدودھ فروش  40 کروڑ روپےاضافی وصول کررہےہیں۔