کراچی کلفٹن
اور ڈیفنس میں برساتی پانی جمع
ہونے کا معاملہ۔
سندھ
ہائی کورٹ کی کنٹونمنٹ بورڈ حکام،ماہرین اور رہائشیوں کا اجلاس بلانے کی
ہدایت۔
دیئے
اربوں روپے خرچ کررہے ہیں۔ رہائشیوں کو تو بتائیں آخر کیا کام کررہے ہیں۔سیوریج
کا پانی سمندر میں ڈال رہے ہیں۔
سی
ویو کے سامنے گٹر بن جائے گا۔
سندھ
ہائی کورٹ میں بارشوں کے دوران ڈی ایچ اے اور کلفٹن کے علاقے زیر آب آنے کے
خلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی۔
درخواست
گزاروں کے وکیل نے بتایا کہ عدالت نے
کنٹونمنٹ بورڈ اور رہائشیوں کی میٹنگ بلانے کا کہا تھا۔
کنٹونمنٹ
بورڈ نے کہا کہ وہ اجلاس میں کوئی پریزنٹیشن
نہیں دیں گے۔
عدالت
نے اس پر ڈی ایچ اے اور کنٹونمنٹ بورڈ
حکام پر برہمی کا اظہار کیا۔
جسٹس
حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کروڑوں اربوں روپے کا کام ہوگا۔
رہائشیوں
کو یہ تو بتائیں کیا رہے ہیں ؟ بارشیں ہوں گی تو
پانی کہاں جائے گا ۔
سڑکوں
کے درمیان گھڑے کھود دئیے گئے ہیں ۔ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ کے پائپ سڑکوں کے درمیان ڈال دئیے ہیں۔
پانی
کی نکاسی کیسے ہوگی۔ ماہرین کی خدمات حاصل
کرکے منصوبہ بندی کریں۔
بڑے
بڑے پاکستانی ہیں جنہوں نے دبئی اور شارجہ
میں ٹاؤن پلاننگ جیسے کام کیے ہیں۔
جسٹس
حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئےہم نےدیکھا ہے نارتھ ناظم آباد ،گلشن اقبال ،فیڈرل بی
ایریا کی پلاننگ ہوئی ہے ۔
جس
طرح کنٹونمنٹ بورڈ کررہا ہے کروڑوں اربوں روپے ضائع ہوجائیں گے۔
سٹی
کورٹ کے سامنے نو۔نو فٹ کے پائپ ڈالے گیے
ہیں ۔
شہر
کے کئی ایسے پروجیکٹ ہیں جہاں پانی نہیں رکتا۔
آپ سیوریج کا سارا پانی سمندر میں ڈال رہے ہیں۔
سی ویو کے سامنے گٹر بن جائے گا۔
ڈی
ایچ اے کے وکیل نے کنٹونمنٹ بورڈ اور
رہائشی درخواست گزاروں کے درمیان پندرہ دن
میں میٹنگ کرانے کی یقین دہانی کرادی۔
میٹنگ
میں ماہرین ، ڈی ایچ اے افسران اور پروجیکٹ
سے متعلق افراد شریک ہوں۔
ایک ماہ میں میٹنگ کرکے آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش
کی جائے ۔