سندھ حکومت نے متحدہ قومی مومنٹ کے مطالبے پر کراچی کی انتخابی حد بندیوں میں تبدیلی کا فیصلہ کرلیا ہے ۔۔ مشیر قانون مرتضی وہاب نے 53 نئی یوسیز بنانے کے متعلق قانون سازی کا ڈرافٹ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو بھجوادیا ہے
ایم کیو ایم کی جانب سے بلدیاتی حلقہ بندی کے معاملے پر آج دیئے جانے والا دھرنا تو موخر ہو گیا لیکن سندھ حکومت دھرنا کو ملتوی کروانے کے لئے متحرک ہے ۔۔ ایم کیو ایم نے سندھ حکومت سے 76 نئی یوسیز بنانے کا مطالبہ کیا تھا اور چودہ جنوری کو سندھ حکومت نے 53 نئی یوسیز بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے ۔۔ بلدیاتی حدبندی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا تھا ۔۔ تاہم الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن کو تسلیم نہ کرتے ہوئے 15 جنوری کو بلدیاتی انتخابات کروادیے تھے ۔۔ ایم کیو ایم کی جانب سے دھرنے کے اعلان کے بعد اب سندھ حکومت نے ایک بار پھر 53 نئی یوسیز کی قیام کے لئے قانون سازی کاڈرافٹ تیار کر لیا ہے ۔۔مشیر قانون مرتضی وہاب نے ڈرافٹ حتمی منظوری کے لئے وزیر اعلیٰ ہاؤس بھجوادیا ہے ۔۔ کراچی کے سات اضلاع میں 246 یوسیز ہیں ۔۔ جس میں اضافے کے بعد ان کی تعداد 299 ہو جائے گی ۔۔ تاہم اس تبدیلی کا بلدیاتی انتخابات کے بعد مکمل کیئے جانے مراحل پر اثر نہیں پڑے گا اور الیکشن کمیشن گیارہ نشتوں پر ضمنی انتخابات کے بعد 246 یوسیز کے نتائج پر ہی میئر کراچی کا انتخاب کی کاروائی کرے گا۔