کراچی میں وفاقی وزیر برائے بحری امور فیصل سبزواری نےتقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہےکہ جنرل مشرف کے دور میں کراچی میں کام ہوا، اس وقت کے ترتیب میں اور آج کے ترتیب میں فرق ہے۔
انکا کہناتھاکہ اس وقت بلدیاتی نظام الگ تھا اور آج بلدیاتی نظام الگ ہے
اب ترتیب الٹی ہے کیونکہ 18 ویں ترمیم ہے اس سے بہت کچھ بدل گیا ہے
پہلے دو چار ٹیک ہوتے تھے اور اب سیکڑوں ٹیکس ہوتے ہیں
نو ارب روپے آخری شئیر ٹیکس تھا جب تک وفاق کے رہا تھا
18ویں ترمیم کے سب اتنا بدل گیا ہے کہ اب کچھ بھی نہیں ملتا ہے
جب میں نے وزارت سنبھالی تو اس وقت اتنے برے حالات تھے کہ 2026 میں break even پر چلا جاتا اور 2027 تک ختم ہوجانا تھا کیونکہ ہم نے ٹیرف نہیں بڑھائے
اس سے ملک کو کوئی فاہدہ نہیں ہوا
ہم نے کراچی پورٹ پر آنکھ بند کرکے ہم نے پابندی لگا دی
کراچی پورٹ ریاست پاکستان کا اہم اثاثہ ہے
اگر 200 روپے کوئی ٹریفک لائسنس پر رشوت دیتا ہے تو کیا برانچ ہی بند کروادے
ٹیرف کو ریوائز نہیں کیا جارہا موڈرنائزئشن نہیں لایا جارہا
میں تو تو یہ والی وزارت نہیں لینا چارہا تھا
آڈٹ آپ نے کروائے نہیں ہیں
ہم اپنا کول کراچی پورٹ نہیں اتار رہے