سوشل میڈیا پر متنازعہ مواد اور جعلی خبریں پی ٹی اے کیلئے چیلنج بن گئیں

سدرہ پٹیل سدرہ پٹیل

سوشل میڈیا پر متنازعہ مواد اور جعلی خبریں پی ٹی اے کیلئے چیلنج بن گئیں

سوشل میڈیا پر متنازعہ مواد اور جعلی خبریں پی ٹی اے کیلئے چیلنج بن گئیں


 سوشل میڈیا مواد سے متعلق روزانہ کی بنیاد پر 350 شکایات موصول ہونے لگیں،

دستاویز کےمطابق
پی ٹی اے کی درخواست پر سوشل نیٹ ورکس نے 12 لاکھ یو آر ایل بلاک کردیئے، 

 
پی ٹی اے کی جانب سے بھیجی گئی 20 فیصد شکایات پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا،  


سوشل میڈیا کمپنیوں کی پوسٹنگ ملک کے باہر ہونے سے مسائل ہیں،  


سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے کمیونٹی گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کرتی ہیں،  


توہین مذہب، نفرت انگیز اور تفرقہ بازی   مواد پر سوشل میڈیا کمپنیوں کا رسپانس سست ہے،  


توہین مذہب اور نفرت انگیز مواد پر سوشل میڈیا کمپنیوں کے علم کی کمی مسائل کی وجہ ہے،  


کسی کی شہرت کو نقصان پہنچانے والے مواد   پر  سوشل میڈیا کمپنیوں کا رسپانس سست ہے، 


 سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کا پھیلاو بھی پی ٹی اے کیلئے چیلنج ہے، 


شہریوں کو سوشل میڈیا کے ذمہ درانہ استعمال سے متعلق بھی آگاہی نہیں،