دنیا نیوز کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ تو نہ ہو سکا لیکن پیٹرول کی سہولت کے حامل ملازمین کا پٹرول کم کر دیا گیا،،، دنیا نیوز کے ملازمین کی تنخواہوں میں گزشتہ کئی برسوں سے اضافہ نہیں کیا گیا،،
کم تنخواہوں پر کام کرنے والے ملازمین کو پہلے تو کئی بار اضافے کی باتیں کی گئیں،،،
لیکن اضافہ نہ کیا گیا،،، تاہم ستمبر کے مہینے سے وہ فیلڈ ورکرز جنہیں سیلری کے ساتھ پٹرول کی سہولت میسر تھی ان سے پیٹرول کی سہولت کم کر دی گئی،،،
کچھ ملازمین کا پیٹرول آدھا کر دیا گیا اور کچھ کے پٹرول میں 25 سے 50 لیٹر کمی کر دی گئی،،، اور جواز یہ بتایا گیا کہ پٹرول چونکہ بہت مہنگا ہے اس وجہ سے کم کیا جا رہا ہے،،،
دوسری جانب دنیا نیوز کے چھوٹے بیوروز کے رپورٹرز سمیت کیمرہ مین اور دیگر اسٹاف کی تنخواہیں بھی کم ہیں،،، چند سال قبل ڈاؤن سائزنگ کے نام پر بیشتر ملازمین کی تنخواہوں میں کٹ بھی لگائے گئے جو کئی ملازمین کے اب تک بحال نہیں کیے گئے،،،
ہر سال حکومت کے اعلان کردہ کم سے کم اجرت کے قانون پر دنیا نیوز عمل پیرا رہتا تھا لیکن رواں برس 32 ہزار کے اجرت پر عمل درآمد میں تاخیر کی گئی،،، اور 32 ہزار کی اجرت کا قانون دنیا نیوز میں ستمبر کے مڈ کے بعد سے شروع کیا گیا،،،
ستم ظریفی چھوٹے بیوروز کے کئی رپورٹرز کی تنخواہ اب 32 ہزار ہو رہی ہے ،،، اور پہلے اس سے بھی کم تھی،،، ایسے میں پیٹرول کم کرنے کا فیصلہ ملازمین کا معاشی قتل ہے،،، کیونکہ اس مہنگائی میں 32 ہزار میں گزارہ کرنا انتہائی مشکل ہے،،،، اور جو ملازمین اس ادارے کے ساتھ کام کر رہے ہیں وہ بھی مجبوری میں اس ادارے سے وابستہ ہیں،، پاکستان کے ٹاپ رینکنگ کے اس چینل میں نئے آنے والے ملازمین کو تو اچھے پیکجز دیے جاتے ہیں لیکن یہاں بھی چھوتے بیوروز کے ملازمین کو کم سے کم اجرت پر بنا کسی سہولت کے رکھا جاتا ہے،،،، افسوس تو اس بات پر ہے کہ ان تمام معاملات پر پی ایف یو جے اور دیگر صحافتی تنظیموں کی جانب سے کوئی احتجاج یا بیان دکھائی نہیں دیتا،،، اور اس طرح یہ ملازمین استحصال کیا جاتا ہے،،،، ان تمام حالات میں جو ملازمین جنکا گزارہ صرف اسی تنخواہ پر ہوتا ہے وہ ذہنی کوفت میں مبتلا ہوتے جا رہےہیں،،، اور ایسے میں جسے کوئی دوسرا ادارہ 2 یا 3 ہزار بھی زیادہ آفر دے دے تو وہ جانے کے لیے تیار ہیں،،،