27ویں آئینی ترمیم کی منظوری، آئینی عدالت کے قیام کی راہ ہموار — نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ترمیم میثاقِ جمہوریت کے دیرینہ وعدے کی تکمیل ہے، جس میں آئینی عدالت کے قیام کا تصور شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ میثاق محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان طے پایا تھا، جس کا مقصد جمہوریت اور آئینی اداروں کے درمیان توازن قائم کرنا تھا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ آئینی عدالتوں کی دیگر عدالتوں سے علیحدگی ایک بڑی کامیابی ہے، اور اس سے آئینی مقدمات کے فیصلوں میں تیزی آئے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ چیف جسٹس سمیت تمام ججز کی سنیارٹی برقرار رہے گی۔
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ لندن میں تمام سیاسی جماعتوں نے اس ایجنڈے پر دستخط کیے تھے، اور 23 سال سے آئینی توازن پیدا کرنے کی کوششیں جاری تھیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں آئینی عدالتیں موجود ہیں، اور پاکستان میں بھی اس روایت کا آغاز ایک اہم سنگِ میل ہے۔
ترمیم کے دیگر نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ججز کے تبادلوں کے نظام میں اصلاحات کی گئی ہیں، جبکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو فنڈز کی تقسیم 42 سے بڑھا کر 57 فیصد کر دی گئی ہے۔ وفاقی قرضہ اب پورے ملک کا مشترکہ بوجھ تصور کیا جائے گا، اور دفاعی و ترقیاتی منصوبے صرف اسلام آباد نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ہوں گے۔
آبادی میں توازن اور نصابِ تعلیم پر بھی نائب وزیراعظم نے تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں توازن اسلامی اصولوں کے مطابق لانا وقت کی ضرورت ہے، اور اس ضمن میں وفاقی و صوبائی مشاورت کی تجویز دی گئی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے کے بعد وفاق کا کردار محدود ہوا ہے، اور صوبے و وفاق بنیادی تعلیم پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہے۔
انہوں نے یکساں نصابِ تعلیم کے لیے قومی سطح پر بات چیت کو ناگزیر قرار دیا، اور کہا کہ اعلیٰ تعلیم اب مشترکہ مفادات کونسل کے تحت ریگولیٹ ہوگی۔ وفاقی ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام اور دوائیوں کی منظوری کے یکساں نظام پر بھی اتفاق رائے ہوا ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ وزیراعظم نے تمام سیاسی جماعتوں سے تفصیلی مشاورت کی، اور سرفراز بگٹی و منظور کاکڑ نے بل کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے مسودے میں بھی یہی نکات زیرِ غور تھے، اور ن لیگ و ق لیگ نے ہیلتھ و ایجوکیشن پر اختلافی نوٹ دیے تھے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ آئینی ترامیم عوامی تفہیم اور مشاورت سے طے ہوئیں، اور یہ جمہوریت کے استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔