موسیقی اور شاعری کے حسین امتزاج کے ساتھ محو رقص فنکار

صبانور صبانور

موسیقی اور شاعری کے حسین امتزاج کے ساتھ محو رقص فنکار

نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس میں سجی کلاسیکل رقص کی محفل۔ شیما کرمانی اور فرح یاسمین شیخ نے اسٹیج پر ایک ساتھ پرفارم کیا۔ موسیقی اور شاعری کے حسین امتزاج کے ساتھ محو رقص فنکاروں کو دیکھنے والوں نے خوب داد دی۔

امید کی کرن

رقص کی ایسی محفل جو آپ پر سحر طاری کردے

فرح یاسمین کا کتھک اور شیما کرمانی کے اُڑیسی رقص کے پس منظر میں شاعری اور موسیقی کا رنگ بھی جما

فرح یاسمین نے کہا کہ امید کی کرن کی ضرورت شاید پاکستان سمیت پوری دنیا میں ہے

آپکی یاد آتی رہی رات بھر۔

چشم نم مسکراتی رہی رات بھر۔ مخدوم محی الدین کے کلام پر شیما کرمانی نے نظریات میں رومانوی وابستگی پیدا کردی۔

شہروز حسین کی جادو بھری آواز کے سنگ ستار کی دھن پر کل چودھویں کی رات تھی پر رقص کرکے فرح یاسمین نے انشاء جی کے کلام کو رونق بخشی۔

اختتام میں شیما کرمانی اور فرح یاسمین نے آج رنگ ہے پر رنگ جما کر اسٹینڈنگ اویشن کے ذریعے داد سمیٹی۔