سندھ کی تاریخ میں پہلی بار تین تعلیمی
بورڈز میں ماہرین تعلیم کے بجائے بیوروکریٹس کی تعیناتی پر اسکولوں اور کالجز کی
نمائندہ تنظیموں کا احتجاج۔ وزیر اعلیٰ سے
نوٹیفکیشن واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔
سندھ کے تین تعلیمی بورڈز کو کمشنرز کے
حوالے کیے جانے کے فیصلے کے خلاف سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن اور آل
سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کی جانب سے ہنگامی پریس کانفرنس کا
انعقاد کیا گیا۔
چئیرمین آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ ایسوسی ایشن حیدر علی نے وزیر اعلی سندھ سے نوٹیفکیشن واپس
لینے کا مطالبہ کیا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو جمعرات سے احتجاج کیا جائے گا۔
سپلا کے صدر منور عباس کا کہنا تھا کہ
تعلیمی بورڈ پہلے ہی بحران کا شکار ہیں۔ نگراں وزیر تعلیم کی ترجیح بھی صرف پرائیویٹ
سیکٹر ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سکھر بورڈ کے چیئرمین
کےعہدے کا چارج کمشنر سکھر فیاض عباسی، انٹر بورڈ کے چیئرمین کا چارج کمشنر کراچی
سلیم راجپوت کو دیا گیاہے۔سندھ ٹیکنیکل بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ تاحال خالی ہے۔