اپنی طرف سے یہ کہہ سکتی ہوں، ہر
انسان کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔
میں مختلف ، ثقافتی ،سماجی ،
نسلی پس منظر سے تعلق رکھتی ہوں .
میری
والدہ کا تعلق کرسچن مذہب سے ہے۔
میں
اس خاندان سے تعلق رکھتی ہوں ۔
میرے والدین نے ہماری ایسی تربیت کی ہے کہ آپ نے انسانیت کے مذہب کو
اپنانا ہے۔
میرے والد صاحب بھی فلاحی کام کیا
کرتے تھے۔
انہی سے
متاثر ہوکر میں ڈاکٹر بنی ہوں
میرے والد بھی ڈاکٹر ہیں۔
جب میں ہائوس جاب کررہی تھی تو مجھے یہ اندازہ ہواکہ بڑے مسئلے ہیں ۔
میری سوچ تھوڑی محدود تھی۔ بڑے مسئلے ہیں انکو منظر عام پرلانا ذیادہ اہم
ہے اور ذیادہ ضروری ہے۔
سیاست میں جاکر میں لوگوں کی ذیادہ مدد کرسکوں گی۔ذیادہ بہتر طریقے سے ۔
اپنی ہائوس جاب کے دوران میں نے مسائل دیکھے تھے۔
جو ہماری سرکاری اسپتال ہیں جہاں
پر میں ہائوس جاب کررہی تھی۔ وہاں پر سہولیات بہت کم تھی۔
آپریشن کی سہولیات کم تھی۔
ایمرجنسی کی سہولیات نہیں تھی۔ریفرنس ریٹ بہت ذیادہ تھا۔
کوئی تھوڑا بھی پیچیدہ کیس آتا
تھا۔ا نکو ریفر کردیتے تھے کہ آپ اس اسپتال سے
چلے جائیں۔
آپ اس سٹی میں چلے جائے۔ تو بلکل ایسا ہی ہمارے ضلعے میں بھی ہوتاہے۔
پشاور اور اسلام آباد بھیجتے تھے مریضوں کو ۔ بہت سارے ایمرجنسی کے کیسسز
ہوتے ہیں۔
میرے والد کو خود بھی ہارٹ اٹیک ہوا تھا ۔
انکو بھی ریفر کردیا تھا پشاور
۔ایسے تو نہیں ہوتا نہ ایک منٹ سے بہت کچھ
ہوسکتاہے ایک منٹ بھی میٹر کرتاہے۔
زندگی اور موت کی بات ہوتی ہے۔
اس چیز کو ایڈریس کرنے کےلیے میرے پاس دو راستے مجھے نظر آئے کوری ڈور
آف پاور ، بیوروکریسی اور پالیٹکس اس کے
لیے جیسے میری ہائوس جاب ختم ہوئی ۔
میں نے سی ایس ایس کی اکیڈمی بھی
جوئن کی ساتھ ساتھ میں سیاست میں متحرک ہوتی چلی گئی۔
لیکن میری ترجیح سیاست ہی تھی۔
ایک پالیسی میکر میں ذیادہ بہتر
طریقے سے مینج کرسکتی ہوں یہ مجھے محسوس ہوتا تھا۔اگر میں اپنے ضلعے کوہی لے لو ہم
ایک مڈل کلاس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔مجھے ہر مسئلے کا پتا ہےجن مسائل سے ہمارے
سارے لوگ دوچار ہیں۔پھر میرے ایجنڈہ میں ایجوکیشن پر بھی بہت دھیان ہے۔
میں شاگرد رہ چکی ہوں اپنے ضلع میں بھی اور باہر بھی وہ مسئلے بھی کافی ہے۔ ایز اے ہیلتھ کیئر ورکر اسپتال کے اندر کے مسائل کا مجھے ادراک ہے۔اس لیے مجھے اندازہ ہے میں ذیادہ اچھے طریقے سے یہ کام کرسکتی ہوں۔
ایک اقلیت سے تعلق رکھنے کے حوالے سے مجھے یہاں پہلے دن سے جو سپورٹ رہی
ہے اس کے علاوہ بھی مجھے مذہبی طور پر کبھی بھی تفرقے یا الگ نہیں رکھا گیا ۔
جینڈر کی وجہ سے فرق رہاہے لیکن
مذہبی کوئی فرق اور تخصیص کا سامنا کبھی نہیں رہا ہے۔
پہلے دن سے ہی مجھے بہت مثبت رجحان ملا عوام اور علاقے کے لوگوں کی جانب
سے ۔
اقلیت ہونے کے ناطے مجھے کسی قسم
کا کوئی چلینجنگ پوزیشن یا مرحلے سے نہیں گزرنا پڑا ہے۔مجھے یہاں پر دختر بونیرکا
ٹائٹل دیےدیاہے۔
یہاں پر ہم اپنے علاقے کے لوگوں
کی طاقت کو سمجھتے ہیں۔ یہاں سب پختون ہیں۔ایک پشتون لڑکی ہونے کے ناطے مجھے
بہن بیٹی کا وہ رشتہ وہ مقام دے دیا گیا
ہے۔ مجھے وہ اس طرح سپورٹ کررہے ہیں تو مجھے اقلیت سے تعلق رکھنے کے باوجود کبھی
بھی اس بات کا کبھی علاقے کے لوگوں نے احساس تک نہیں ہونے دیاہے۔
میں نےخود کو اقلیت کبھی سمجھا ہی نہیں ہے ایک خاتون ہونے کے ناطے میں
بتا سکتی ہوں کیا مسئلے ہیں کچھ حدود کی
پابندی ذیادہ ہے ہمارے لیے ملازمت میں بھی مواقع کم ہیں۔ یہ امتیازی سلوک پورے
پاکستان میں ذیادہ ہے۔جتنا ذیادہ دیہی علاقہ آتاہے اتنا وہ ذیادہ ہوتاہے۔ خاص طور
پر ہمارے ضلعے میں خواتین کو بلکل بھی
اجازت نہیں ہے کہ وہ گھر سے باہر نکلے۔ بغیر کورکئے بغیر تو بلکل بھی نہیں برقعہ
حجاب سارا کچھ کرکے اس کے بعد باہر جاسکتی ہے۔
ہمارے علاقے میں اسکول بھی بہت
کم ہیں۔لڑکیوں کے اس پراس وجہ سے تعلیم پر توجہ بھی بہت کم ہے۔ ایسی سہولیات کا بھی
فقدان ہے جس میں کوئی ہنر سیکھ کر گھر میں بیٹھ کر کام کیا جاسکے۔کافی ذیادہ اس
طرح کے مسائل ہیں۔
ایسا سمجھا جاتاتھا کہ دیہات کا علاقہ ہے لیکن اس میں بھی بہت اچھی بات یہ
ہے کہ ہمارا یوتھ چنک بہت ذیادہ ہے۔ ہرانسان کے پاس سیل فون موجود ہے۔گلوبلائزیشن
ہوچکی ہے۔
اب ہر بندے کو پتا ہے کہاں پر کیا ہورہاہے۔دنیا میں کیا چل رہاہے کیسے چل رہاہے؟ پاکستان میں کیا ہورہاہے کیا نہیں ہورہاہے۔ ہرانسان ان چیزوں کو محسوس کررہاہے اسے معلوم ہےکہ جب تک ہماراویمن چنک ہے جب تک وہ اپنا کردار ادا نہیں کرےگا ۔ ہمارا ملک مستحکم نہیں ہوسکتاہے۔ہم اگر ملک کے علاوہ اپنے گھر کی بھی بات کریں تو یہ بہت مشکل ہوجاتاہے کہ مرد فنانس کے حوالے سے سارے اخراجات برداشت کرے۔
اب اس طرح گھر بھی نہیں چل سکتے ہیں خواتین کو اپنا کردار ادا کرنے کی
بےحد ضرورت ہے۔ اس چیز کو اب پروموٹ کیا جارہاہے مجھے گھر سے سپورٹ مل رہی ہے۔ میں
نے ریڈیو میں جب انٹرویو دیا تو لوگوں نے اپنے کمنٹس میں یہ بھی کہا کہ اللہ کرے
ہر گھر میں آپ کے جیسی بیٹی پیدا ہو۔ ہر گھر میں بہن بیٹی ہے۔ ہم انکی توانائیاں
اور صلاحیتیں باہر لانے نہیں دے رہے ہیں۔
میں اپنے ضلع کی بات کرو تو یہاں
تعلیم کی سہولیات بہت کم ہے۔ انکی صلاحیت ابھر کر سامنے آتی ہی نہیں ہے۔ ہم گھروں
تک ہی محدود رہتے ہیں۔ میرے خیال سے یوتھ اور ویمن ایمپاورمنٹ بہت اہم ہے خواتین
اور نوجوانوں پراگر انحصار کیاجائے انکی صلاحیتوں کام کو بروئے کار لاکر ہم ملک کوبہت اچھے انداز میں معاشی طور پر مستحکم بھی
کرسکتے ہیں اور اپنے علاقے کو بھی۔
میرے سے بہت ذیادہ تجربہ کار اور دانشمند لیڈر موجود ہیں۔ میں اس ترقی کی
دوڑ میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتی ہوں۔ حکومت سے جو چیزیں نظر انداز ہوجاتی ہیں۔ کچھ چیزوں
پر فوکس نہیں پہنچتا۔ میں ان چیزوں پر فوکس دلانا چاہتی ہوں۔ ایک عام انسان کی
طرح۔ ایک متوسط گھرانے سےتعلق رکھنے کے۔ اس میں انفرااسٹکچر کی بات بھی ہوجاتی
ہےلوگوں کے لیے تھوڑی سہولیات ذیادہ کرنے
کی ضرورت ہے لوگ آرام سے سفر کرسکیں۔ہمارے پاس گیس نہیں ہے یہ سارا کچھ یہ چیزیں پرووائیڈ کرنا چاہتی ہوں۔
اس کے علاوہ جو میری سب سے بڑی خواہش ہےکہ ایک تو میں ایجوکیشن سسٹم کا
کچھ کرسکوں نیشنل لیول پر کہ ایجوکیشن میں
اچھے اور بہترین اصلاحات لانے کی اب بھی بےحد ضرورت ہے۔ ہمارا جو علم کو رٹنے کا سلسلہ چل رہاہے۔وہ
آئوٹ ڈیٹ ہوچکاہے۔دنیا بہت آگے جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ یہ جو ہمارے ٹیچرز ہے
انکے لیے یہ جو ٹیچنگ والی جاب ہے اسکو مزید باعزت اور حوصلہ اور اسکی اہمیت کو اجاگر کرسکوں۔ اس میں یہ بھی
آتاہے کہ اگر انکی سیلری اگر بڑھا دی جائے جو نالج ایبل اور جو ٹیلنٹڈ ہمارے
لوگ ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے اپنی پسند سے خوشی سے اس شعبے میں آئیں۔
اس طرح بہت اچھے سے وہ دل لگا کر اپنے اسٹوڈٖنٹس کو پڑھا بھی سکیں گے۔
ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے ڈائیلاگ ڈائیلاگ اور ڈائیلاگ
ہی تمام مسائل کا حل ہے ہم اپنے مخالف کے ساتھ بھی بہتر انداز میں ڈائیلاگ کرسکتے
ہیں انہیں قائل کرسکتے ہیں۔
اقلیت سے تعلق رکھنے والے ہندو ،کرسچن اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے
افراد نے مجھ سے رابط کیاہے۔ انکی ڈیمانڈ صرف اور صرف مساوات ہے برابری ہے عدل
ہے۔اور انکی ڈٰیمانڈ جاب کوٹہ بڑھانے کی ہے۔ اپنی طرف سے شاید میں یہ بھی ایڈ کرلو
کہ جو بچے دو تین مارکس سے رہ جاتے ہیں انکو موقع ملنا چاہیے پڑھنے کےلیے آگے
بڑھنے کےلیے ہماری فیملی ایک کزن کے ساتھ ایساہوا تھا وہ نفسیاتی ہوگیا تھا اس ڈپریشن
سے بھی یوتھ کو نکالنے کی خواہش مند ہوں۔
ہمارے آئین میں اقلیتوں کو تمام حقوق دیئےجاچکےہیں۔ اقلیتوں کےلیے مذہبی
آزادی سے لیکر ایک پاکستانی ہونے کے تمام حقوق انہیں حاصل ہیں۔قانون کی بالا دستی
ہونی چاہییے اس پر عملدرآمد کرنے میں بہتری لانے کی اب بھی بہت ذیادہ گنجائش کی
ضرورت ہے۔ فریم ورک تھوڑا اسٹرونگ کرناہے۔
میں نے میٹرک تک اپنے علاقے سے ہی تعلیم حاصل کی ہے۔ ایف سی کےلیے لاہور
چلی گئی تھی اس کے بعد پھر میں نے ایم بی بی ایس کیاہے۔ میں نے ہائوس جاب اپنی
مکمل کی ہوئی ہے۔ میں لائسنس اور رجسٹرڈ ڈاکٹر ہوں۔
جیسے کہ سب کو پتا ہے پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سے آزاد سوچ کی حامل
جماعت رہی ہے۔ خواتین کو خودانحصار کرنے کےحوالے سے بہت کام کئے ہیں اس پارٹی نے شہید بے نظیر بھٹو
پہلی وزیر اعظم رہ چکی ہیں جو انہوں نے خواتین کےلیے جو کام کئے ہیں خواتین پولیس اسٹیشن ، خواتین بینک
، لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام یہ چیزیں خواتین
کی خود انحصاری کےلیے ہی تھی۔
اب بھی ہم دیکھ سکتے ہیں کافی ذیادہ
جو ٹکٹ ملے ہیں پاکستان پیپلزپارٹی سے ہی
ویمن کو ملے ہیں۔سینیٹر ہماری روبینہ بیٹھی ہوئی جن کو میں اپنی مینٹر بھی سمجھتی
ہوں۔پھر سینٹیر شیری رحمان ان سے بھی میں
بےحد متاثرہوں۔ یو ایس ایمبیسڈررہی ہے اور یو ایس کے ساتھ ہمارے تعلقات کو بہتر بنانے میں انکا اہم کردار ہے۔ انکا تعلق
بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے ہی ہے۔ اس کے علاوہ حنا ربانی ہیں۔ وہ وزیر خارجہ رہی
ہیں۔ ان تمام خواتین کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہی ہے۔
سینیٹ پر بھی آپ نظر دوڑائی تو
پاکستان پیپلز پارٹی کی خواتین ہی آپ کو نظر آئے گی۔ مجھے جو ٹکٹ دیاہے یہ میرے
لیے بہت ذیادہ اعزاز کی بات ہے۔مجھ پر اعتماد کیاہےکہ میں اپنی خواتین کی نمائندگی
کرو۔ پیپلز پارٹی نہ صرف خواتین بلکہ اقلیتوں کی خود انحصاری کے حوالے سے بہت
متحرک ہے۔ سینیٹ میں بھی ہماری خاتون کرشنا کوہلی بیٹھی ہوئی ہیں۔ اقلیتوں میں ہری
رام صاحب کو ٹکٹ ملتا رہاہے ڈاکٹر مہیش ملہانی صاحب کو پیپلز پارٹی سب کو اہمیت دیتی آئی ہے۔ یہ سب
لوگ جنرل سیٹوں پر پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے ہی منتخب ہوتے رہے ہیں پیپلز پارٹی خواتین
ہوں اقلیت ہوں سب کو اہمیت دیتی ہے بغیر رنگ و نسل کے ۔
اس کے علاوہ میں خواتین کی بات کرو جنرل الیکشن میں کیوں نہیں آتی ہیں اس میں لمیٹیشن کی بات آجاتی ہے۔ مرد باہر
رہتے ہیں جن سے لوگوں کا رابطہ مردوں کےساتھ ذیادہ ہوتاہے۔ خواتین میں وہ اعتماد
نہیں ہوتاہے۔ انکو مطلب کوئی ووٹ دے گا۔ انکو جانتےبھی ہیں یا کچھ بھی ۔ جنرل الیکشن
کا خواتین خود بھی نہیں سوچتی ہیں۔
موسیقی سننا اور فلمیں دیکھنا اور کتابیں پڑھنا میرا شوق ہے۔ میوزک کا ٹیسٹ میرا چینج ہوتارہتاہے۔بکس میں ایک رائٹر ہیں جن پر کافی لوگ تنقید کرتے ہیں۔
میرے فیورٹ رائٹر جین آسٹن ہیں۔ انکی بکس پر جو فلمیں بھی بنی ہیں وہ بھی میری ساری فیورٹ ہیں۔
انکی فلمیں دیکھ کرمجھے اپنا بچپن یاد آتاہے اپنے ہاتھوں سے مختلف چیزیں بنا لیتی ہوں اس کے علاوہ فری ٹائم میں دیگر مشاغل میں بھی مصروف رہتی ہوں۔
تبدیلی بہتر اورکچھ کرنے کے عزم کے ساتھ پرجوش ہوں اس ملک کے لیے اس خطے کے لوگوں
کے لیے کچھ کام کچھ خدمت ایسی کرنا چاہتی ہوں جو انہیں صدیوں تک یاد رہے۔