کراچی میں میونسپل چارجزکی کے الیکٹرک بلوں میں وصولی کےخلاف آئینی درخواستوں کی سماعت۔ عدالت کا میئر کراچی کو کے الیکٹرک کے ساتھ ٹیکس وصولی معاہدے کی نقول پیش کرنے کا حکم۔ میونسپل چارجز کی وصولی کے خلاف حکم امتناع میں توسیع کر دی۔ جسٹس صلاح الدین پنہورکی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کےدورکنی بنچ نےسماعت کی۔ درخواست گزاروں کے وکلا نے موقف اپنایا ہمیں ٹیکسوں کی وصولی کےنظام پراعتراض ہے۔ ہمیں لگتا ہےکہ یہ فنڈ کرپشن کی نظرہوجائے گا۔ عدالت نے کہا آپ کا کہنا ہے کسی تھرڈ پارٹی کے ذریعے میونسپل ٹیکس اکٹھا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جسٹس صلاح الدین پنہور نے دریافت کیا اس سے ایک عام آدمی کیسے متاثر ہوسکتا ہے۔ وکلا نے بتایا عام آدمی اگر یہ ٹیکس نہیں دے گا ،،تو اس کی بجلی کاٹ دی جائے گی۔ عدالت نےمیئر کراچی کو مخاطب کر کے کہا آپ کے الیکٹرک کے ذریعہ ٹیکس وصولی پر کیوں زور دے رہے ہیں، اور بھی تو ادارے ہیں۔ میئر کراچی نے کہا شہر میں تین یوٹیلیٹی ادارے ہیں۔ سب سے فائدہ مند کے الیکٹرک ہی تھا۔ اس لیے ان کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کر لئے۔ درخواست پر سماعت تین اپریل تک ملتوی کردی گئی۔ سماعت کےبعد میڈیا سےغیررسمی گفتگوکرتےہوئےمئیرکراچی کا کہناتھا کہ شہر کے چلنے کا فیصلہ دو چار لوگ نہیں کرسکتے۔ یہ اختیار سٹی کونسل کے پاس ہے مئیرکراچی کا کہنا تھا کہ شفاف نظام سے زیادہ جوابدہی ہوگی۔ کے ایم سی ساڑھے چار ارب روپے سالانہ ٹیکس جمع کرسکتی ہے۔ ڈیجیٹل نظام آگیا تو پارکنگ مافیا بھی ختم ہوجائے گا۔امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان سمیت وکلاء نےآئینی درخواست کے ذریعے اعتراض دائر کیا ہے