پاکستان میں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے حجم اور مالیت میں نو فیصد اضافہ

عرفان علی عرفان علی

 پاکستان میں رواں  مالی سال  کی پہلی سہ ماہی میں  ڈیجیٹل ادائیگیوں  کے  حجم  اور مالیت میں نو فیصد اضافہ


پاکستان میں رواں  مالی سال  کی پہلی سہ ماہی میں  ڈیجیٹل ادائیگیوں  کے  حجم  اور مالیت میں نو فیصد اضافہ۔موبائل بینکاری ایپس  صارفین کی  تعداد ساڑھے نو کروڑ سے  زائد تک پہنچ گئی۔ 

اسٹیٹ بینک  کی رپورٹ کے مطابق   مالی سال  2024-25  کی پہلی سہ ماہی میں  نظام ادائیگی کا جائزہ جاری کردیا۔ڈیجیٹل ادائیگیوں میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔  کیش کےذریعےادائیگیوں کے حجم میں  8 فیصد اضافہ ہوا۔ڈیجیٹل ادائیگیوں کے حجم اورمالیت دونوں میں 9 فیصد کا  اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ موبائل بینکاری ایپس کے صارفین کی مجموعی تعداد 4 فیصد اضافے  سے 9 کروڑ  65 لاکھ   تک جا پہنچی۔ جبکہ  ٹرانزیکشنز میں  حجم کے لحاظ سے11 فیصد اور مالیت کے لحاظ سے 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار  کے مطابق سہ ماہی کے دوران ہونے والی 11کروڑ  80لاکھ  آن لائن ای کامرس ادائیگیوں میں سے 91فیصد ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی گئیں۔ پوائنٹ آف سیل ٹرمینلز کی تعداد ایک لاکھ 32 ہزار سے بڑھ گئی ۔جن کے ذریعے 429 ارب روپے کی 8کروڑ30لاکھ ٹرانزیکشنز ہوئیں۔ اے ٹی ایم نیٹ ورک   19ہزار170 یونٹس تک پہنچ گیا  جس  سے    3.9 ٹریلین روپے مالیت  کی 24 کروڑ 30لاکھ  ٹرانزیکشنز ہوئیں۔ 


اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق بلوں کی ادائیگی ، موبائل ٹاپ اپس کی مد میں  2 کروڑ 80لاکھ  ٹرانزیکشنز اور رقوم  ڈپازٹس اور نکلوانے  کی 7 کروڑ 50لاکھ  ٹرانزیکشنز پروسیس کیں۔’راست ‘فوری ادائیگی کے نظام کے ذریعے  4.7 ٹریلین روپے مالیت کی 19 کروڑ 70 لاکھ ٹرانزیکشنز انجام دی گئیں۔