رانی پور: کندھ کوٹ سے شادی کی دعوت پر جانے والے راںیپور کے دو نوجوان—مزمل شاہانی اور ماجد پنہیاری—اغوا کر لیے گئے، جب کہ ڈاکوؤں نے انہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دی ہے۔ ویڈیو میں مغوی نوجوانوں کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر مارا پیٹا جا رہا ہے، اور ان سے ایک کروڑ روپے تاوان طلب کیا جا رہا ہے۔
اغوا شدہ نوجوان ویڈیو میں دہائی دیتے دکھائی دے رہے ہیں: "ہم راںیپور کے رہائشی ہیں، ہمیں دن رات مارا پیٹا جا رہا ہے، پیسے دے کر ہمیں چھڑایا جائے۔ ہمیں بھاگنے کی کوئی نیت نہیں، بس رہائی چاہیے۔"
دوسری جانب مغوی ماجد پنہیاری کی والدہ غلام صغرا پنہیاری نے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر میڈیا کے سامنے اپیل کی: "ہم غریب لوگ ہیں، کرائے کے مکان میں رہتے ہیں، مزدوری سے گزربسر کرتے ہیں، پچاس لاکھ کہاں سے لائیں؟ میرے بیٹے کو بازیاب کرایا جائے۔"
یاد رہے کہ دونوں نوجوانوں کو فیس بُک پر شادی کی دعوت موصول ہوئی تھی جس کے بعد وہ کندھ کوٹ پہنچے تھے، جہاں سے انہیں اغوا کر لیا گیا۔
اہلِ علاقہ اور لواحقین نے اعلیٰ حکام سے فوری ایکشن لینے، مغویوں کی بحفاظت واپسی اور اغوا کاروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے