کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت شاہراہِ بھٹو منصوبے پر اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کو منصوبے کے مختلف حصوں پر جاری پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔۔۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ شاہراہِ بھٹو کو قائدآباد تک کھول دیا گیا ہے جبکہ دسمبر تک اسے موٹروے سے جوڑنے کے لیے ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔۔۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ شاہراہِ بھٹو انتالیس کلومیٹر طویل ہائی اسپیڈ روڈ ہے جو ڈی ایچ اے، کورنگی اور حیدرآباد کو آپس میں جوڑتی ہے۔ یہ شاہراہ شہر کے صنعتی اور رہائشی علاقوں کو ملانے والی چھ اہم انٹرچینجز پر مشتمل ہے۔۔۔وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ شاہراہِ بھٹو کو قائدآباد تک کھول دیا گیا ہے جبکہ دسمبر تک اسے موٹروے سے جوڑنے کے لیے ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔۔۔ملیر ریور بیڈ پر سمو گوٹھ کے قریب چار کلومیٹر طویل ایلیویٹڈ اسٹرکچر پر کام جاری ہے، جواڑتالیس فیصد مکمل ہو چکا ہے۔۔۔وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ کورنگی کاز وے برج پر کام اسی فیصد مکمل ہے۔ برج مکمل ہونے کے بعد پرانی کاز وے روڈ کو بند کر دیا جائے گا۔ مراد علی شاہ نے ہدایت دی کہ برج پر کام جلد از جلد مکمل کیا جائے۔۔۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ شاہراہِ بھٹو کو دسمبر میں کاٹھور تک ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گااور منصوبہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل کیا جائے۔۔۔