احساس لاپتہ ہے
کہیں وقت کی گرد میں دب گیا،
یا شاید
کسی خواب کی شکست میں دفن ہو گیا۔
اب دل دھڑکتا تو ہے،
مگر سنائی نہیں دیتا —
بس ایک سناٹا ہے
جو رگوں میں لہو کی جگہ دوڑتا ہے۔
محبت نامعلوم ہے
نقشِ گم شدہ کی مانند —
نہ آغاز کی خبر،
نہ انجام کا پتا۔
کبھی خط میں تھی،
کبھی آنکھوں کے بین السطور،
اب —
خاموشیوں کے سمندر میں ڈوبی ایک لاش کی طرح،
بس یاد ہے کہ کچھ تھا...
جو اب نہیں ہے۔
وفا؟
آہ...
وفا تو غدار نکلی۔
جس پر بھروسہ تھا،
اسی نے خنجر دیا —
اور زخم؟
وہ آج بھی ہرا ہے،
وقت کے مرہم سے انکاری،
یاد کے کانٹوں میں الجھا ہوا۔
لوگ کہتے ہیں
غم وقت کے ساتھ مٹ جاتا ہے،
مگر وہ نہیں جانتے —
کہ کچھ دکھ
یاد بن کر نہیں،
وجود بن کر جیتے ہیں۔
آنکھوں کے پیچھے
ہمیشہ اک دھند چھائی رہتی ہے،
دل میں اک سرد جنگ —
اور زبان پر وہ جملے
جو کبھی کہے نہ جا سکے۔
محبت اگر زندہ ہے،
تو شاید کسی اور جہاں میں —
جہاں وعدے وفا ہوتے ہوں،
جہاں لمس بےوفا نہ ہو،
جہاں آنکھوں میں نمی
کمزوری نہیں،
خلوص کی سند ہو۔
مگر یہاں —
جہاں میں اور تم جیے،
وہاں صرف ایک سچ بچا ہے:
احساس لاپتہ ہے،
محبت نامعلوم،
وفا غدار ہے۔۔