میرا بابا ایک آواز ایک خوشبو ایک ذائقہ

حسن مجتبٰی حسن مجتبٰی

میرا  بابا    ایک آواز  ایک خوشبو  ایک ذائقہ

میرا  بابا


ایک آواز

ایک خوشبو

ایک ذائقہ


دھوپ کا چشمہ جس سے اس کی  ہی آنکھوں سے دنیا کو دیکھنا

تب  ہریالی بھریالی لگتی دنیا۔


باپ ایک چھوٹی سی بگیہ

گلاب کے انگنت پھول

سرخ، سفید، گلابی، نیلے، پیلے

شہتوت 

فالسے

امرود 

گریپ فروٹ 

آم کے درخت

باپ آم کے درخت

سندھڑی، چوسہ

موسم بے موسم کے آم

میٹھے کھٹے کچے۔

گھنی گھاس۔


بہتا شفاف ٹھنڈے پانی کا کنواں

سیراب کرتا پانی

کنویں کی سمفنی جیسی آواز

لوٹیوں  میں بھرتاپانی

کنویں کے بیل کا چکر

چل بھٹارا چل۔


باپ، کنواری   بنجرزمین میں ہل کا پھل

سر سبز لہلہاتی گندم جیسا

تاحد نظر سرسوں کے پھولوں کے کھیت جیسا

لیموں کی خوشبو جیسا

  کچی لیکن نصف میٹھی کھجوروں جیسا ۔


چاروں موسم جیسا  

من کے پانچویں موسم جیسسا

باغوں میں پڑےجھولوں جیسا 

ساون جیسا ری سکھیو۔


برستی بارش جیسا

گھنگور گھٹائوں جیسا

موروں جیسا

بارش کے بعد دھلی اجلی اکیلی خاموشُ سڑکوں جیسا۔


شام کو گھر واپس ہوتے ریوڑ جیسا

چرواہے کے چنگ کی تان جیسا۔


شاموں کو

گھروں میں چولہوں پر پکتی روٹی کی خوشبو جیسا۔


کڑک جاڑوں میں اونٹ کی اون

سے بنے کھیس کی لمس اور گرمی جیسا میرا باپ۔

چرخے کی کوک جیسا۔


کھیتوں میں سرکشی جیسے سر اٹھائے گنے سے ایک پروسیس میں اسی کے اپنے ہاتھ سے بنائے تیل کڑھائی کاڑھے گڑ کی مٹھاس جیسا

خاص مہمانوں کیلے باداموں سے بنا گڑ۔


بھینسوں کی جگالی جیسی حرارت جیسا۔


قومی شاہراھ پر دوطرفہ ٹریفک کے کنارے رجنیش کی باتوں کی رفتار سے بنا بریکوں اور پیڈل پر بغیر ربڑ سائیکل والا جسے اس کے مرسیڈیز چلاتے ہوئے دوست مذاق میں ہیلیکاپٹر کہتے 

میرے لئے جسیے موت کے کنویں میں سائیکل چلا رہا ہو۔


وہ ہوائی حملے کے بجتے سائرن میں خندق جیسا

وہ روپوش انقلابیوں کی کمین گاہ یا ماں جیسا باپ۔


وہ سنہرے گھنے بالوں والےکھلے سینے پر کھیلتے بڑے 

ہوتے بچوں کے قہقہوں  جیسا۔


وہ تازہ شیو والے گالوں جیسا۔


وہ آدمی کے پہلے محبوب کے درشن جیسا۔


وہ بھور سمے “نماز نیند سے بہتر ہے” کی سریلی صدا جیسا

وہ ایک لا خدا کا خدا پرست پنج وقتی نمازی باپ

پر لکم دینکم ولیدین جیسا محکم دین


وہ ملتانی مٹی میں ملے  میٹھے تیل اور لیموں کی کھال سے ایک سادھو کی طرح جسم پر ملے

ما قبل تقسیم گھر میں ہینڈ پمپ کے نیچے نہاتے  جسم پر پڑتے برفانی پانی کی یخ بستہ دھار جیسا۔


وہ گھر جس میں جب اس کی پرانی مالکن  ما بعد تقسیم پونا سے آئی

تو اس نے اپنے پرانے گھر کے نئے باسیوں سے صرف اسے اسی  ہینڈ پمپ کا پانی کا  ایک گلاس پلانے کا کہا تھا۔


وہ جون کی گرمیوں میں برف دابے لکڑی کے رندے کی شیو کی خوشبو جیسا۔


وہ ہالیووڈ  ایکٹروں کے چہروں جیسا۔


وہ بڑے شہر سے صبح کی اخبار کے ٹرین پر چھوٹے شہر میں شام کو پہنچنے کے انتظار جیسا


وہ بغیر بجلی شہر کی تاریک گلیوں میں جلتے فانوس جیسا 

وہ رومی کے شعر جیسا

وہ سعدی کے گلستان و بوستان کا ایک پھول

وہ ڈاکٹر گربخشانی کے شاہ جو رسالو کا وہ قدیمی نسخہ جسے اسکا دوست لے گیا پھر کبھی واپس نہ کرنے کو ۔


وہ، جس نے مجھے کہا

“پڑھ”

وہ جس نے مجھے ہاتھ میں قلم پکڑنا سکھایا

اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا سیکھائی۔


وہ چاول کی اترتی فصل

ہمرچو گیت جیسا

اور کپاس کی چنائی جیسا نرم آدمی

وہ وییساکھی جیسا

دھرتی جتنا مہربان 

تا حد نظر آسمان جیسا بلند اسکا بیٹا 

دھرتی کی ہی گود میں سوگیا

بس وہیں  کھو گیا۔