اسلام آباد سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (SSDO) نے سندھ میں گھریلو تشدد سے متعلق اپنی تازہ ترین فیکٹ شیٹ جاری کر دی ہے، جو سندھ پولیس سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ فیکٹ شیٹ میں صوبے بھر میں گھریلو تشدد کے کیسز کو جسمانی، جنسی اور نفسیاتی تشدد کی اقسام کے تحت تفصیل سے پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوری تا جون 2025 کے دوران صوبہ سندھ میں مجموعی طور پر 204 گھریلو تشدد کے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 150 جسمانی تشدد، 50 جنسی تشدد اور 4 نفسیاتی تشدد کے کیسز شامل ہیں۔ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ رپورٹنگ کے نظام فعال ہیں، تاہم اس عرصے میں کسی بھی کیس میں سزا نہ ہونا انصاف کی فراہمی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ضلع کیماڑی میں سب سے زیادہ جسمانی تشدد کے 59 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ عمرکوٹ (6 فی 100,000 آبادی) دوسرے اور جنوبی کراچی کے اضلاع سکھر، کورنگی اور میرپور خاص میں کیسز کی تعداد نسبتاً کم رہی، مگر ان علاقوں کی کم آبادی کے باعث یہ کیسز بھی خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔
جنسی تشدد کے حوالے سے کراچی شرقی میں سب سے زیادہ 17 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ کیماڑی، میرپور خاص، عمرکوٹ اور ٹنڈو الہ یار میں بھی تشویشناک صورتحال سامنے آئی۔ فیکٹ شیٹ کے مطابق گھریلو تشدد شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں گہرائی سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 98 چالان عدالتوں میں جمع کرائے گئے اور 70 کیسز زیرِ سماعت ہیں، مگر اس دوران کسی بھی کیس میں سزا نہیں ہوئی۔ صرف 14 کیسز میں بریت یا واپسی کی کارروائی ہوئی، جو تفتیش اور عدالتی کارروائی میں موجود سنگین خامیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے اس موقع پر کہا گھریلو تشدد کے کیسز میں سزا نہ ہونا نظامی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ اور سماجی بہبود کے محکموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی، متاثرین کے تحفظ کے مؤثر اقدامات اور عوامی آگاہی مہمات ناگزیر ہیں۔
سندھ ڈومیسٹک وائلنس فیکٹ شیٹ 2025 پالیسی سازوں، سول سوسائٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک اہم شواہد پر مبنی دستاویز ہے، جو گھریلو تشدد (تحفظ و انسداد) ایکٹ 2013 کے مؤثر نفاذ اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی میں مدد فراہم کرے گی