میڈیا نمائندوں پر بے روزگاری کی یخ بستہ ہوائیں چل پڑیں۔
نکتہ پاکستان نے 37 صحافیوں کو فارغ کیا۔
تشویش کی لہر ابھی تھمی نہ تھی کہ جی ٹی وی نے بھی 50 کے قریب ملازمین کو نکال دیا۔
نیوز ڈیسک، پروڈیوسر، رپورٹر، کیمرہ مین، انجینئر—سب متاثر۔
واٹس ایپ پر ایک پیغام: "مالی حالات بہتر نہیں"۔
بس اتنا ہی، اور سب کچھ ختم۔
صحافیوں میں بے یقینی، غصہ، اور خاموشی۔
کوئی پریس کلب، کوئی تنظیم، کوئی مذمت نہیں۔
جومحرومی، غربت، لاچاری کی آواز بنے—آج ان کی آواز کوئی نہیں۔
ذرائع بتاتے ہیں: ڈان ڈیجیٹل میں بھی حالات نازک۔
کسی بھی لمحے ناخوشگوار خبر آ سکتی ہے۔
ن لیگ کی حکومت میں صحافت زخم خوردہ۔
قلم کی حرمت، کیمرے کی روشنی، مائیک کی گونج—سب مدھم۔
یہ صرف نوکریاں نہیں گئیں، یہ سچ کی سانسیں بند ہوئیں۔