پشاور ہائیکورٹ نے خواتین کی وراثت کے تحفظ قانون کے تحت صوبائی محتسب کے 80 سے زائد فیصلے کالعدم قرار دے دیے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2019 صوبائی محتسب کو متنازعہ جائیداد کی تقسیم کا اختیار نہیں دیتا۔ جسٹس محمد نعیم انور نے 90 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جائیداد سے متعلق پیچیدہ تنازعات سول کورٹس کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ محتسب کے تمام فیصلے لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 سے متصادم ہیں اور زیر التوا سول یا فیملی مقدمات میں محتسب مداخلت نہیں کر سکتا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ محتسب نہ تو عدالتی کارروائی روک سکتا ہے اور نہ ہی ملکیت کے حقوق کا فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایکٹ کی بعض دفعات میں خامیاں موجود ہیں جنہیں دور کرنے کے لیے قانونی ترمیم کی ضرورت ہے۔ عدالت نے وضاحت کی کہ قانون کے مطابق محتسب زیر التوا مقدمات کا جائزہ لے سکتا ہے لیکن ان پر فیصلہ نہیں دے سکتا۔