اسلام آباد ہائیکورٹ: تعلیمی اداروں میں منشیات کے خاتمے سے متعلق درخواست کی سماعت 27 جنوری تک ملتوی

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

اسلام آباد ہائیکورٹ: تعلیمی اداروں میں منشیات کے خاتمے سے متعلق درخواست کی سماعت 27 جنوری تک ملتوی

اسلام آباد ہائیکورٹ: تعلیمی اداروں میں منشیات کے خاتمے سے متعلق درخواست کی سماعت 27 جنوری تک ملتوی


اسلام آباد ہائیکورٹ میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے خاتمے کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت میں پولیس، اے این ایف اور پرائیویٹ اسکول ریگولیٹری اتھارٹی کی رپورٹ جمع کرائی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ آئی جی اسلام آباد کی سربراہی میں اسٹیک ہولڈرز کی دو میٹنگز ہو چکی ہیں۔


جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ حکومت کو منشیات کے خاتمے کے لیے جوائنٹ ٹاسک فورس بنانی ہے، مقصد یہ ہے کہ تمام ادارے مہم کے تحت مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ صرف میٹنگز بلانے سے کام نہیں چلے گا، عملدرآمد کر کے دکھانا ہوگا۔


پراسیکیوٹر اے این ایف کے مطابق ہر پرائیویٹ تعلیمی ادارے میں فوکل پرسن تعینات کر دیا گیا ہے اور ہر ماہ منشیات کے خاتمے سے متعلق میٹنگز ہوں گی۔ پیرا حکام نے بتایا کہ 9 دسمبر کو 100 اسکولوں کے نمائندوں پر مشتمل ٹیم بلا کر آگاہی مہم چلائی گئی، جبکہ ہر اسکول میں فوکل پرسن پر مشتمل کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔


عدالت نے ہدایت دی کہ پیمرا آگاہی مہم چینلز پر چلائے اور اس حوالے سے پیمرا کا متعلقہ افسر آئندہ سماعت پر طلب کیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت 27 جنوری تک ملتوی کر دی۔