کملا، عمر
تقریباً 38 سال، سندھ کے ضلع خیرپور کے نواحی علاقے میں رہتی ہیں۔ وہ باگڑی قبیلے
سے تعلق رکھتی ہیں جو روایتی طور پر خانہ بدوش زندگی گزارتی ہے اور روزگار کی تلاش
میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی ہے۔ تاہم کملاکا خاندان کچھ عرصے سے خیرپور
کے قریب ہی مقیم ہے ۔
کملا اپنے
خاندان کی بنیادی کفیل ہیں۔ وہ کھیتی باڑی
کرتی ہیں اور ساتھ ہی گھر کے اخراجات، بچوں کی تعلیم اور خاندان کے فیصلوں
میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کا کہناہےکہ
خواتین کو فیصلہ سازی میں آگے آنا پڑتا ہے - باگڑی عورت محنت کرتی ہیں اور
روزمرہ کے فیصلے کرتی ہیں، محدود آمدنی کے باوجود انہیں گھر چلانا اور بچوں کی
تربیت ،تعلیم کا بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ایک باگڑی برادری سے تعلق رکھنے کے باعث
اسےسماجی سطح پر دشواری کا سامنا کرنا
پڑتا ہے، اسکے علاوہ کام کے ساتھ ساتھ انہیں کھانا پکانے، بچوں کی دیکھ بھال اور
دیگر گھریلو کام بھی خود ہی کرنے پڑتے ہیں۔
باگڑی دراوڑ
نسل کے وہ باسی، جو سندھ کی مٹی میں پانچ ہزار برس سے سانس لے رہے ہیں۔
یہ قبیلہ خانہ بدوش تھا، راستوں کا رفیق، زمین کا عاشق، آسمان کا ہمراز۔
ان قبائل کی
زندگی صدیوں پرانی روایات سے جڑی ہوئی ہے۔ نہ مستقل رہائش، نہ بنیادی سہولیات… بس
ایک امید، ایک سفر، اور ثقافت کا بوجھ… یہ لوگ نہ صرف اپنی شناخت کے لیے لڑ رہے
ہیں، بلکہ اپنی تہذیب کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
پچھلے کچھ
برسوں میں کچھ نے ٹھہرنا سیکھا، مگر اکثریت آج بھی جھگیوں میں رہتی ہے۔ نہ
دیواریں، نہ دروازے، بس ایک چادر، ایک چھت، اور بے شمار خواب۔
بالائی سندھ
میں کشمور تک ان کی بستیاں ہیں، قصبوں کے کنارے، شاہراہوں کے سنگ، جہاں دھوپ بھی
ان کی ہمسفر ہے۔زیریں سندھ میں وہ کم نظر آتے ہیں، مگر آم کے موسم میں کیریوں کی
آواز کے ساتھ لوٹ آتے ہیں— "کیریاں لے لو…"یہ وہ لوگ ہیں جن کی تاریخ
کتابوں میں نہیں، مگر مٹی میں لکھی گئی ہے۔
باگڑی قبیلے کے مرد خواتین کی نسبت …ذیادہ تر نہ کوئی خاص ہنر نہیں جانتے ہیں، کمانا، کھانا پکانا، کپڑے دھونا، لکڑیاں چننا… کھیتی باڑی کرنا یہ سب کام عورتوں کے ذمہ ہوتے ہیں۔
● خانہ بدوش روایت: باگڑی برادری سندھ میں ایک خانہ بدوش ہندو قبیلہ ہے جو روایتی طور پر روزگار اور گزر بسر کے لیے مختلف شہروں اور قصبوں میں منتقل ہوتا رہا ہے۔ ان کا قیام کسی ایک جگہ پر زیادہ عرصے تک نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہ موسمی حالات اور کام کے مواقع کے مطابق آگے بڑھتے تھے.
● قیام کی مدت: ماضی میں یہ خاندان چند ہفتوں یا مہینوں کے لیے ایک جگہ پر قیام کرتے اور پھر آگے بڑھ جاتے تھے۔ ان کی زندگی کا انداز زیادہ تر عارضی ٹھکانوں پر مشتمل ہوتا تھا۔
● حالیہ تبدیلیاں: اب کئی باگڑی خاندانوں نے مستقل سکونت اختیار کرنی شروع کر دی ہے تاکہ ان کے بچے تعلیم حاصل کر سکیں۔ مثال کے طور پر روہڑی کے نواحی علاقوں میں کچھ باگڑی خاندان مستقل طور پر آباد ہو گئے ہیں اور اپنے بچوں کو مقامی اسکولوں میں داخل کروا رہے ہیں
●
وجہ سکونت: تعلیم، صحت اور روزگار کے
بہتر مواقع کی وجہ سے یہ خاندان اب ایک جگہ پر زیادہ عرصے تک رہنے لگے ہیں۔ اس
تبدیلی نے ان کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے اور بہتر مستقبل بنانے کا موقع دیا ہے۔
چمپا کہتی ہیں کہ خواتین کو فیصلہ سازی میں آگے آنا پڑتا ہے کیونکہ اگر وہ خود قدم نہ بڑھائیں تو خاندان مشکلات میں گھِر جاتا ہے۔ ان کے نزدیک خواتین کی خود انحصاری ہی باگڑی برادری کے بقا کی ضمانت ہے۔
باگڑی قبیلے سے تعلق رکھنے والی چمپا کی عمر 32 سال ہے۔ تھرپارکر کی جھگیوں میں رہتی ہے۔ دو سال سے سڑک کنارے کھلونے بیچتی ہے۔ لہجہ پُراعتماد، آنکھوں میں جُرْأَت۔کہتی ہے: "ہم نے جنم لیا تو عورتوں کو فیصلے کرتے دیکھا۔"شادی کا فیصلہ؟ ماں کرتی ہے۔ بچہ مزدوری کرے یا نہیں؟ دادی طے کرتی ہے۔برادری میں جھگڑا ہو؟ عورتیں بیٹھتی ہیں۔ بات کرتی ہیں۔ فیصلہ سناتی ہیں۔
چمپا کہتی ہے: "گھر ہو یا گلی، عورت ہی سنبھالتی ہے۔"بچوں کی دیکھ بھال؟ روزمرہ کے فیصلے؟ سب عورت کے ہاتھ میں۔چمپا صرف کھلونے نہیں بیچتی، وہ حوصلہ بیچتی ہے۔ وہ مثال ہے۔ وہ رہنما ہے۔لیکن باگڑی عورت ہونے کے ناطے معاشرتی رویئے دیکھ کر انہیں افسوس ہوتاہے کہ ہمیں کمتر سمجھا جاتاہے۔
تیس سالہ ریتہ کا تعلق بھی تھرپاکر سے ہے اور دو بچوں کی ماں ہے۔ صبح کھیتوں میں کام، دوپہر بازار میں سبزیاں بیچنا اور شام کو چولہا سنبھالنا انکی زندگی کا اثاثہ کل ہے۔ کہتی ہےکہ بچپن سے ماں اور دادی کو فیصلے کرتے دیکھا ہے، والد ہمیشہ خاموش رہے۔ باگڑی قبیلے میں عورت ہی فیصلے کرتی ہے، میں یہ جانتی ہوں اگر باگڑی قبیلے میں عورت رک جائے تو نہ گھر چلتا ہے، نہ کھیت، نہ بازار۔
لچمی بھی تھر
کی بیٹی ہے۔ کھانا پکاتی ہے، کماتی ہے، اور کھیتوں میں بیج بھی بوتی ہے۔
کہتی ہے:
"سب کچھ ہم ہی کرتے ہیں۔ تو گھر اور بچوں کے فیصلے بھی ہم ہی کریں گے۔"
لچمی کے لہجے میں نہ غرور ہے، نہ شکایت۔ بس سچائی ہے۔ کہتی ہے: "ہمارے مرد ہمارے بااختیار ہونے کے مخالف نہیں۔ بلکہ خوش ہوتے ہیں۔ ہمارا ساتھ دیتے ہیں۔"
یہ عورتیں صرف
گھر نہیں چلاتیں، کام کے دوران چھوٹے بچوں کو ساتھ رکھنا انکا خیال رکھنا بھی انہی کی ذمہ داری ہوتی ہے برادری سنبھالتی ہیں۔
جھگڑے سلجھاتی ہیں۔ فیصلے کرتی ہیں۔
یہ باگڑی عورتیں ہیں۔ جن کے ہاتھ میں ہل بھی ہے، اور اختیار بھی۔
ان تمام باگڑی خواتین کو کام کے دوران مشقت ، معاشرتی رویے اور حقارت جیسے تمام مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہےکہتی ہے مسائل کو دیکھ کر ڈر کر گھر پر تو نہیں بیٹھ سکتی ہیں بچوں کےلیے محنت کرنے کے لیے ہم ہی کو آگے آنا پڑےگا ۔
۔ گھنشیام باگڑی قبیلے سے تعلق رکھتےہیں کہتے ہیں کہ ہماری عورتیں محنتی خواتین میں شمار ہوتی ہیں ہمارے یہاں ایسی رسومات نہیں جس میں ہم کسی کی جان لیں یا کسی کو نقصان پہنچائے- اگر ہماری عورتیں فیصلے اور گھر کے تمام کام کرتی ہیں ہمیں اس میں خوشی ہوتی ہے ہم بھی اپنے باپ داد کے دور سے انہیں ہی سب کرتے دیکھتے ہیں آئے ہیں اور یہ بہتر نظام چلاتی ہیں ہمارے ساتھ کھیتی باڑی سے لیکر تمام کاموں میں عورت شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہیں۔
باگڑی قبیلے سے تعلق رکھنے والے موتی لال کا تعلق دادو سے ہے اور وہ مزدوری کرتے ہیں کہتےہیں ہمارے ذہن میں خواتین فیصلہ کرتی ہیں یہ اچھا ہے یا برا ہے ہم نے کبھی اس طرح نہیں سوچا بس یہ تو سالوں سے چلا آرہاہے اور ہم خوش ہے اس میں تو برا ماننے والی ایسی کوئی بات نہیں ۔
سندھ کے خانہ بدوشوں کی زندگی، ثقافت اور طرزِ رہائش پر تحقیق کرنے والے معروف مصنف خالد کمبہار نے اس موضوع پر گہرا مطالعہ کیا ہے۔ ان کی دو اہم تصانیف — "خانہ بدوش قبیلہ" اور "جھنگ جا ماٹھو" — اس حوالے سے خاصی شہرت رکھتی ہیں اور خانہ بدوش کمیونٹی کی زندگی کو قریب سے سمجھنے کا نادر موقع فراہم کرتی ہیں۔
خالد کمبہار کا کہنا ہے کہ باگڑی خواتین اپنے گھروں، برادریوں اور روزمرہ زندگی میں فیصلہ سازی کی طاقت رکھتی ہیں۔ چاہے وہ بچوں کی تعلیم کا معاملہ ہو، روزگار کے انتخاب کا، یا خاندانی تنازعات کا حل ۔۔ باگڑی خواتین کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے، باگڑی خواتین اکثر گھریلو فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں برادری کے اندر خواتین کی مشاورت کو عزت دی جاتی ہے، خاص طور پر بزرگ خواتین کی۔تعلیم اور معاشی خودمختاری کے مواقع محدود ہونے کے باوجود، خواتین اپنی روایات اور تجربات کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔کچھ علاقوں میں خواتین مقامی تنازعات کے حل میں ثالثی کا کردار بھی ادا کرتی ہیں۔
میرپور خاص سے تعلق رکھنے والے باگڑی قبیلے کے جگدیش پنچایت کے فیصلے کرتے ہیں کہتےہیں ہم تنازعات کوئی لین دین کا معاملہ ہو کو کو مردوں کے مابین ہو تو اس کو حل کرتے ہیں وہ مردوں کے درمیان کا معاملہ ہوتا ہے البتہ خواتین گھریلو اور سماجی باقی تمام امور اپنے انداز سے سرانجام دیتی ہیں جس میں انکی منشاء کے علاہ کوئی بھی کام ممکن نہیں ہوتا ہے-
باگڑی نسل سے
تعلق رکھنے والی بی بی باگڑی قمبر شہر میں کئی برسوں سے ایک مشن پر ہیں — وہ مشن
جو علم کی روشنی سے اپنی کمیونٹی کے بچوں کا مستقبل سنوارنے کا ہے۔ وہ ایک اسکول
چلا رہی ہیں، جہاں باگڑی بچوں کو تعلیم سے آراستہ کیا جاتا ہے۔
بی بی باگڑی
نے وہ راستہ چُنا جس پر چلنا آسان نہیں تھا۔ انہوں نے روایتی خاندانی نظام سے
بغاوت کی، اور اپنی زندگی کو صرف خطرے میں نہیں ڈالا بلکہ سماجی جبر، تنقید اور
مخالفت کا سامنا بھی کیا۔ بی بی باگڑی با شعور ہے اور سماجی کارکن بھی ہےوہ ایک
عورت ہے۔ نہایت
سادہ، مگر دل میں طوفان لیے ہوئے۔ جب اپنی کمیونٹی کے بچوں کو اسکول بھیجتی، تو دل
میں ایک چبھن سی رہتی۔ نفرت، حقارت، تذلیل—یہ سب کچھ ان معصوم آنکھوں نے سیکھا،
مگر علم… وہ کہیں کھو گیا تھا۔
راتوں کو نیند
نہیں آتی تھی۔ سینے میں ایک آگ سی دہکتی رہتی۔ سوچتی، کیا ہمارے بچے الگ ہیں؟ کیا
ان کے خواب کم قیمت رکھتے ہیں؟
وہ بچوں سے
پوچھتی، "بیٹا، آج کیا سیکھا اسکول میں؟" اور جواب آتا، "ٹیچر ہمیں
ان ناموں سے بلاتے ہیں، مارتے ہیں، ڈانٹتے ہیں۔"
یہ سن کر وہ
تڑپ جاتی۔ یہ تڑپ ہی اس کا مشن بن گئی۔ فیصلہ کر لیا— اگر اپنے بچوں کو عزت کے
ساتھ تعلیم دینی ہے، تو اپنا اسکول کھولنا ہوگا۔
وسائل؟ کچھ بھی نہیں۔ بس ایک خواب، ایک خواہش، ایک ضد۔ اور ایک چھوٹا سا کمرہ، جہاں اس نے پہلا سبق پڑھایا۔
آج… وہی خواب
ایک حقیقت ہے۔ پکی عمارت ہے، تین سو سے زائد بچے، جن میں زیادہ تر بچیاں ہیں— جو
اب کتابوں سے دوستی کر چکی ہیں۔ اسکول میں پچاس بچوں پر ایک استانی ہے اور غربت کے
باعث ڈیڑھ سو کے قریب بچے پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں اور مزید تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے
ہیں۔
بی بی باگڑی
خود انٹر پاس ہے، مگر اس کی بصیرت، اس کی ہمت، کسی یونیورسٹی کی ڈگری سے کم نہیں۔
نرسری سے مڈل تک تعلیم، چھ خواتین اساتذہ، اور ایک ماں… جو صرف ماں نہیں، بلکہ ایک رہنما ہے، ایک معمار ہے، ایک انقلاب ہے۔
اقلیتوں کے
مندر فنڈ سے آہستہ آہستہ اسکول کی بنیاد رکھی گئی۔ ہر اینٹ میں ایک خواب ہے، ہر
دیوار میں ایک دعا۔
بی بی باگڑی
نے ثابت کیا— کہ عورت صرف چولہا نہیں جلاتی، وہ علم کا چراغ بھی جلا سکتی ہے۔ وہ
صرف گھر نہیں سنوارتی، قوموں کا مستقبل بھی تراشتی ہے۔
بی بی باگڑی بھی باگڑی کمیونٹی کی ایک سرگرم رکن ہے جو اپنی زندگی کے فیصلوں میں اس قدر آزادتھی جس نے بچوں کی تعلیم کا فیصلہ کیا کہتی ہیں عورت صرف گھر نہیں پورا سماج سنوارتی ہیں زندگی کا ہر فیصلہ عورت خوبصورت انداز میں کرتی ہیں اور اس کو نبھاتی بھی ہے۔
کہتی ہیں اکثر جھگڑے رنجش ، لین دین کا معاملہ
کاروباری میں کوئی مسئلہ ہوتو وہ پنچائیت کے مرد ہی حل کرتے ہیں۔
پیپلز پارٹی
سندھ اقلیتی ونگ کے صدر ڈاکٹر لال چند اوکرانی کہتے ہیں باگڑی ایک پرامن برادری
ہے، اور ان کے خلاف کبھی کسی کو قتل یا دھمکی دینے کا واقعہ رپورٹ نہیں ہوا اپنی
زندگی کے تمام معاملات انکی خواتین احسن طریقے سے سرانجام دیتی ہیں۔
باگڑی برادری
میں خواتین صرف گھر کی ذمہ دار نہیں بلکہ اصل قوت ہیں۔ شاہ لطیف یونیورسٹی کی
پروفیسر ڈاکٹر نجمہ نور پھلپوٹو بتاتی ہیں کہ یہاں عورتیں ہی معاشی کفالت کرتی
ہیں، فیصلے کرتی ہیں اور مرد ان کی معاونت تک محدود ہوتے ہیں۔ ان کی محنت ہی اس
نظام کی بنیاد ہے۔
سینئر صحافی
ولی چانڈیو کافی عرصے مختلف اسٹوریز پر کام کرتےہیں رہے ہیں انکا کہناہےکہ باگڑی خواتین صرف گھر کی خواتین نہیں، بلکہ
پورے نظام کی معمار ہیں۔ وہ کہتے ہیں، "یہاں عورتیں صرف چولہا نہیں جلاتیں،
فیصلے بھی وہی کرتی ہیں۔"
صبح کی روشنی ہو یا شام کی تھکن، مالی معاملات سے لے کر روزمرہ کے اخراجات تک، ہر چیز ان کے ہاتھ میں ہے۔ گھر کا بجٹ ہو یا بچوں کی شادی کا فیصلہ، مرد تب تک خاموش رہتے ہیں جب تک عورت کی رضا شامل نہ ہو۔ ان کے بغیر کوئی فیصلہ مکمل نہیں ہوتا۔
انکا کہناہےکہ باگڑی مردوں کا کردار بس اتنا ہے کہ وہ اپنی عورتوں کی ہاں میں ہاں ملائیں۔ یہاں عورت صرف گھر نہیں سنبھالتی، وہ پورا سماج چلاتی ہے۔"
محقق ،مصنف آصف رضا مورو کہتےہیں کہ عورت اگر کسی سے محبت کرے، تو سوال اٹھانے کی ہمت مرد میں نہیں ہوتی۔محلے میں کوئی جاننے والاکوئی شخص آئے، تو شوہر انہیں احترام سے ملنے دیتا ہے بغیر کسی بحث کے۔یہ وہ روایت ہے جو باگڑی برادری کو سندھ کی دیگر برادریوں سے جدا کرتی ہے۔جہاں اور جگہوں پر عورت کو کاروکاری کے نام پر مار دیا جاتا ہے،وہاں بگاڑی عورت عزت، اختیار اور فیصلے کی علامت ہے۔