گلیات میں مویشیوں کا انشورنس ماڈل ۔ڈبلیو ڈبلیو ایف کی کوشش، ایک چرواہے کی فکر سے جنگلی حیات کے تحفظ تک

رباب ابراہیم رباب ابراہیم

گلیات میں مویشیوں کا انشورنس ماڈل ۔ڈبلیو ڈبلیو ایف  کی کوشش، ایک چرواہے کی فکر سے جنگلی حیات کے تحفظ تک



جب ایک چرواہے کا واحد سہارا۔اس کا مویشی۔جنگلی درندے کے حملے میں ختم ہو جائے، تو نقصان صرف ایک جانور کا نہیں بلکہ پورے گھر کے مستقبل کا ہوتا ہے۔ گلیات میں شروع ہونے والا نیا انشورنس ماڈل اسی خاموش بحران کا عملی جواب بن کر سامنے آیا ہے۔


بڑھتا ہو ا تنازع  اور اس کے اثرات 

پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں انسان اور جنگلی حیات کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، لیکن حالیہ برسوں میں اس میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گلیات، جو اپنی قدرتی خوبصورتی اور جنگلاتی ماحول کے لیے جانا جاتا ہے، اب ایک ایسے مسئلے کی زد میں ہے جہاں مقامی آبادی اور جنگلی درندوں کے درمیان ٹکراؤ معمول بنتا جا رہا ہے۔ اس تصادم کی بنیادی وجہ مویشیوں پر حملے ہیں، جن پر دیہی خاندانوں کی معیشت کا دارومدار ہوتا ہے۔

جب کوئی چیتا یا برفانی چیتا مویشی پر حملہ کرتا ہے تو اس کا اثر فوری طور پر ایک خاندان کی آمدنی پر پڑتا ہے۔ یہی نقصان اکثر مقامی افراد کو ردعمل میں جنگلی جانوروں کو مارنے پر مجبور کرتا ہے، جس سےقدرت کا فطری نظام اور  نایاب  اقسام  کو شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال نے ماہرین کو ایک ایسے حل کی تلاش پر مجبور کیا جو انسانوں اور جنگلی حیات دونوں کے لیے قابل قبول ہو۔


مسئلے سے حل تک کا سفر

اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان  نے جوبلی جنرل انشورنس کے ساتھ مل کر ایک ایسا حل متعارف کرایا ہے جو بظاہر سادہ مگر پراثر ہے۔ گلیات میں مویشیوں کے لیے انشورنس اسکیم شروع کی گئی ہے ۔ اس اسکیم کا مقصد ان خاندانوں کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے جو جنگلی جانوروں کے حملوں میں اپنے مویشی کھو دیتے ہیں۔

یہ اسکیم ایک بنیادی اصول پر کام کرتی ہے۔ اگر کسی مویشی کے مارے جانے کی تصدیق ہو جائے تو اس کا معاوضہ دیا جائے گا۔ اس طرح ایک خاندان کو فوری ریلیف ملے گا اور وہ نقصان کے بوجھ تلے دبنے کے بجائے سنبھل سکے گا۔ اس سے نہ صرف متاثرہ خاندان کو فوری مالی سہارا ملے گا بلکہ  نتیجے  کے طور پر جنگلی حیات کو نقصان پہنچانے کے رجحان میں بھی کمی آئے گی۔

یہ قدم دراصل ایک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔کہ مسئلے کو صرف روکنے کے بجائے اس کے اثرات کو کم کیا جائے، تاکہ ردعمل کی شدت خود بخود کم ہو جائے۔

ہاٹ اسپاٹس اور زمینی حقائق

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے جائزے کے مطابق  پاکستان کے کئی محفوظ علاقوں کے گرد ایسے زونز موجود ہیں جہاں مویشیوں پر حملے سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ ان میں خیبر پختونخوا کا ایوبیہ نیشنل پارک، آزاد کشمیر کا ماچیارہ نیشنل پارک اور گلگت بلتستان کا خنجراب نیشنل پارک نمایاں ہیں۔

اعداد و شمار اس مسئلے کی شدت کو واضح کرتے ہیں۔ صرف خنجراب کے علاقے میں 2023 کے دوران مویشیوں پر حملوں کے 499 واقعات رپورٹ ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ 2015 سے 2023 کے درمیان چھ برفانی چیتے انہی واقعات کے رد عمل  کی کارروائیوں میں مارے گئے۔ یہ اعداد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تنازع صرف  ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی اور سماجی چیلنج بھی ہے۔

مقامی لوگوں کو شامل کرنے کی حکمت عملی

اس منصوبے کی  اہم خصوصیت یہ ہے کہ اسے مقامی کمیونٹی کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے ولیج کنزرویشن کمیٹی اور پارک کنزرویشن کمیٹیوں کو اس منصوبے کے نفاذ میں شامل کیا گیا ہے۔

یہ کمیٹیاں نہ صرف مویشیوں کی نگرانی کریں گی بلکہ نقصان کے دعوؤں کی تصدیق میں بھی کردار ادا کریں گی۔ اس شمولیت سے منصوبے کی شفافیت میں اضافہ ہوگا اور مقامی افراد کا اعتماد بھی بحال ہوگا، جو ایسے اقدامات کی کامیابی کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

ماہرین کی رائے اور حکمت عملی

ڈائریکٹر جنرل ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان  حماد نقی خان کے مطابق یہ مسئلہ اب صرف جنگلی حیات تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ دیہی معیشت سے جڑ چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات ضروری ہیں جو انسان اور فطرت کے درمیان توازن پیدا کریں۔


دوسری جانب جوبلی جنرل انشورنس کے سربراہ اظفر ارشد اس اقدام کو  وسیع تر   حکمت عملی کا حصہ قرار دیا ۔ جس میں مالیاتی ادارے سماجی اور ماحولیاتی مسائل کے حل میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات یہ ثابت کرتے ہیں کہ انشورنس صرف نقصان کے بعد کی سہولت نہیں بلکہ پیشگی تحفظ کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہو سکتی ہے۔خاص طور پر جب بات لوگوں کے روزگار اور ماحول دونوں کی ہو۔

وسیع تر تناظر میں اثرات

انسان اور جنگلی حیات کے درمیان بڑھتا ہوا تصادم صرف ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں بڑی آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور اپنی روزی روٹی کے لیے قدرتی وسائل پر انحصار کرتی ہے، اس مسئلے کے اثرات زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔


مویشیوں کے نقصان کا براہ راست اثر خوراک، آمدنی اور سماجی استحکام پر پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلی جانوروں کی ہلاکت فطری  حیاتیاتی  نظام میں بگاڑ کا   باعث  بنتی ہے، جو ماحولیاتی توازن کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ اس کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔

آگے کیا ممکن ہے؟

گلیات میں شروع ہونے والا یہ پائلٹ منصوبہ مستقبل میں پاکستان کے دیگر متاثرہ علاقوں کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔ اگر یہ ماڈل کامیاب ہوتا ہے تو اسے ان تمام علاقوں میں وسعت دی جا سکتی ہے جہاں چیتے اور برفانی چیتے جیسے درندے انسانی آبادی کے قریب آتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ آگاہی مہمات، بہتر نگرانی کے نظام اور مقامی سطح پرتعاون  کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہوگی تاکہ اس طرح کے اقدامات دیرپا نتائج دے سکیں۔