ایک ایسے آسمان کا تصور کریں جہاں پرواز کرتے گدھ ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں، یا دریائے سندھ کی وہ لہریں اور ڈیلٹا کا وہ وسیع علاقہ جہاں کبھی اندھی ڈولفن اور مختلف اقسام کے کچھووں کا راج تھا، اب زندگی کی ان علامتوں سے یکسر محروم ہو جائے۔
یہ کوئی خیالی اور ڈراؤنی کہانی نہیں ہے، بلکہ پاکستان کے قدرتی ماحول کو درپیش ایک انتہائی تلخ اور تیزی سے قریب آتی ہوئی حقیقت ہے۔ آج 15 مئی 2026 کو، جب دنیا بھر میں خطرے سے دوچار انواع کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، پاکستان میں بھی ان جانداروں کی بقا کے حوالے سے خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ قدرتی ٹھکانوں کا بے دریغ کٹاؤ، بڑھتی ہوئی صنعتی و آبی آلودگی، موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات اور انسانی مداخلت نے ملک کی کئی اہم ترین جنگلی حیات کو بقا کے آخری کنارے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس انتہائی نازک موڑ پر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان (WWF-Pakistan) کی جانب سے سرکاری اداروں، محققین اور مقامی آبادیوں کے اشتراک سے کی جانے والی کوششیں ان نایاب نسلوں کے لیے امید کی آخری کرن ثابت ہو رہی ہیں۔ یہ کوششیں محض چند جانوروں کو بچانے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ اس پورے ماحولیاتی نظام کو گرنے سے بچانے کی ایک منظم جنگ ہے جس پر خود انسانی زندگی کا انحصار ہے۔
آسمان کے خاموش محافظ: سفید پشت والے گدھوں کی واپسی کی طویل جنگ
جب ہم قدرتی ماحول کی صفائی کے نظام کی بات کرتے ہیں، تو گدھ اس نظام کے سب سے اہم اور خاموش محافظ ہیں۔ یہ مردہ جانوروں کو کھا کر ماحول کو خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ سے بچاتے ہیں۔ تاہم، پاکستان میں ان کی آبادی انتہائی تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے۔ خاص طور پر سفید پشت والے گدھ کی حالت ابتر ہو چکی ہے کہ اب اسے انتہائی خطرے کا شکار قرار دیا جا چکا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق، اس وقت کھلے جنگلوں اور پہاڑوں میں ان کی تعداد 50 سے بھی کم رہ گئی ہے۔ اس ہولناک کمی کی سب سے بڑی وجہ مویشیوں کے علاج میں استعمال ہونے والی درد کش ادویات (NSAIDs) ہیں، جن میں ڈائکلوفینک نمایاں ہے۔ جب گدھ ان ادویات سے علاج کیے گئے مردہ جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں، تو ان کے گردے فیل ہو جاتے ہیں اور وہ چند ہی دنوں میں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
اس سنگین بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے ہیں۔ اس سلسلے میں سفید پشت والے گدھوں کی افزائشِ نسل کے لیے ایک خاص اور محفوظ مرکز قائم کیا گیا ہے۔ اس وقت اس مرکز میں 33 گدھوں کی انتہائی احتیاط کے ساتھ دیکھ بھال کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ان کی تعداد میں اضافہ کر کے انہیں دوبارہ آزاد فضاؤں میں چھوڑا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، تنظیم نے مختلف علاقوں میں گدھوں کے لیے محفوظ زونز (Vulture Safe Zones) کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان زونز کا مقصد ایک ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں مویشیوں کے لیے زہریلی ادویات کا استعمال سختی سے ممنوع ہو، تاکہ گدھ بغیر کسی خطرے کے اپنی خوراک تلاش کر سکیں۔ یہ ایک طویل اور صبر آزما عمل ہے، لیکن ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
دریائے سندھ اور ساحلی پٹی کے باسی: ڈولفن اور کچھووں کا کٹھن سفر
پاکستان کا آبی نظام، بالخصوص دریائے سندھ اور اس سے جڑا ہوا ڈیلٹا، جانداروں کی مختلف اقسام کے لیے ایک انتہائی اہم مسکن ہے۔ اس آبی گزرگاہ میں پائی جانے والی اندھی ڈولفن اور میٹھے پانی کے کچھوے ہمارے ماحولیاتی نظام کے اہم ترین ستون ہیں۔ یہ آبی حیات پانی کے معیار کو برقرار رکھنے اور آبی بیماریوں کو روکنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ تاہم، پانی کے بہاؤ میں کمی، ڈیموں کی تعمیر کی وجہ سے مسکن کی تقسیم، زہریلے کیمیکلز کے اخراج اور مچھلی پکڑنے کے غیر قانونی جالوں نے ان جانداروں کا جینا محال کر دیا ہے۔ خاص طور پر ڈیلٹا کے علاقوں میں سمندری پانی کے آگے بڑھنے اور میٹھے پانی کی قلت نے کچھووں کی رہائش گاہوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان آبی جانداروں کی حفاظت کے لیے جاری منصوبوں میں قدرتی ٹھکانوں کا تحفظ، سائنسی بنیادوں پر ان کی نقل و حرکت کی نگرانی اور ماہی گیروں کی تربیت شامل ہے۔ مقامی کمیونٹیز کو اس بات سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ مچھلی پکڑنے کے دوران اگر کوئی ڈولفن یا کچھوا جال میں پھنس جائے تو اسے بحفاظت کیسے واپس پانی میں چھوڑنا ہے۔ یہ تمام اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں کہ دریائے سندھ کی لہریں ان انمول جانداروں کی موجودگی سے کبھی محروم نہ ہوں۔ آبی حیات کی یہ بقا صرف جانوروں کے لیے نہیں بلکہ دریا کے کنارے آباد ان لاکھوں انسانوں کے لیے بھی ضروری ہے جن کا روزگار اور خوراک اسی نظام سے وابستہ ہے۔
غیر قانونی تجارت اور انڈین پینگولن کا تحفظ
انسانوں کی لالچ اور توہم پرستی نے جس جانور کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے، وہ انڈین پینگولن ہے۔ یہ بے ضرر جانور، جو چیونٹیاں اور دیمک کھا کر فصلوں کو تباہی سے بچاتا ہے، آج جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کا سب سے بڑا نشانہ بن چکا ہے۔ روایتی ادویات میں اس کے خول کے استعمال کے بے بنیاد دعووں کی وجہ سے شکاری اسے بے دردی سے مار رہے ہیں۔ اس غیر قانونی کاروبار کو روکنے کے لیے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے ایک انتہائی جامع اور سخت حکمت عملی اپنائی ہے۔
پچھلے ایک سال کے دوران، تنظیم نے پنجاب، سندھ اور آزاد جموں و کشمیر کے 100 سے زائد وائلڈ لائف رینجرز اور افسران کو جانوروں کے جرائم روکنے، جانوروں کی درست شناخت کرنے، انہیں محفوظ طریقے سے پکڑنے اور خود رینجرز کی اپنی حفاظت کی جدید تربیت فراہم کی ہے۔ اس کے علاوہ، آزاد کشمیر کے محکمہ جنگلی حیات کے 25 افسران کو 'اسمارٹ' (SMART) ٹیکنالوجی پر مبنی ٹریننگ دی گئی ہے تاکہ وہ جدید آلات کی مدد سے غیر قانونی شکار پر کڑی نظر رکھ سکیں اور محفوظ علاقوں کا بہتر انتظام کر سکیں۔ دیوا وٹالا نیشنل پارک کے لیے غیر قانونی شکار کے مکمل خاتمے کا منصوبہ (Zero Poaching Plan) اور جنگلی حیات کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے قومی حکمت عملی کی تیاری اس بات کا ثبوت ہے کہ اب جرائم پیشہ افراد کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کی شمولیت سے پنجاب، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں 'پینگولن پروٹیکشن زونز' بنائے گئے ہیں۔ اسی مستعدی کا نتیجہ ہے کہ حالیہ مہینوں میں کم از کم سات پینگولنز کو اسمگلروں کے چنگل سے بچا کر واپس ان کے قدرتی ماحول میں آزاد کیا گیا ہے۔ یہ کامیابیاں ظاہر کرتی ہیں کہ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تو اس غیر قانونی کاروبار کو جڑ سے اکھاڑا جا سکتا ہے۔
پہاڑوں کے بھوت: برفانی چیتے کی جھلک اور ماحولیاتی نظام کی بحالی کی امید
پاکستان کے شمالی علاقہ جات، خاص طور پر چترال اور گلگت بلتستان کے اونچے اور برف پوش پہاڑ، برفانی چیتے کا مسکن ہیں۔ اس جانور کو اس کی پراسرار نوعیت کی وجہ سے 'پہاڑوں کا بھوت' بھی کہا جاتا ہے۔ پچھلی ایک دہائی سے ان کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی تھی اور ان کا نظر آنا تقریباً ناممکن ہو چکا تھا۔ جنگلوں کی کٹائی، ان کی قدرتی خوراک (مارخور وغیرہ) میں کمی اور مقامی چرواہوں کے ساتھ ان کے ٹکراؤ نے ان کی بقا پر سوالیہ نشان لگا دیا تھا۔ تاہم، حال ہی میں ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد ان علاقوں میں برفانی چیتے کے دوبارہ دیکھے جانے کی اطلاعات نے ماہرین میں ایک نئی امید پیدا کی ہے۔
اس اہم پیش رفت پر بات کرتے ہوئے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر پروگرامز، رب نواز کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس طرح کی اکا دکا اطلاعات یا نظارے اس بات کی حتمی تصدیق نہیں کرتے کہ ان کی آبادی مکمل طور پر بحال ہو چکی ہے، لیکن یہ بلاشبہ حوصلہ افزا علامات ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پہاڑی علاقوں کے قدرتی ماحول کو بچانے کی کوششیں کسی حد تک رنگ لا رہی ہیں۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم کو کم کرنے کی مسلسل ضرورت ہے۔ جب تک مقامی چرواہوں کے مویشی محفوظ نہیں ہوں گے اور ان کی معاشی حالت بہتر نہیں ہوگی، تب تک برفانی چیتے کا مستقبل مکمل طور پر محفوظ نہیں کیا جا سکتا۔
آگاہی، تعلیم اور مستقبل کی مستحکم راہیں
صرف قانون سازی اور سختی سے مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ اس کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اس مہم کا حصہ بنانا پڑتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت ڈبلیو ڈبلیو ایف نے آن لائن اور ذاتی سطح پر آگاہی کے وسیع پروگرام ترتیب دیے ہیں۔ اب تک ایک ہزار سے زائد افراد، جن میں مقامی کمیونٹی کے ممبران، طلباء، اساتذہ اور صحافی شامل ہیں، کو اس غیر قانونی تجارت کے تباہ کن اثرات اور ماحول کی اہمیت سے آگاہ کیا جا چکا ہے۔ یہ آگاہی مہم اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ آنے والی نسلیں ان جانوروں کو محض کتابوں میں نہیں بلکہ حقیقت میں دیکھ سکیں۔
اس پورے منظر نامے کا نچوڑ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سینئر منیجر ریسرچ اینڈ کنزرویشن، محمد جمشید اقبال چوہدری کے الفاظ میں بالکل واضح ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ خطرے سے دوچار انواع کا یہ عالمی دن ہمیں ہماری اجتماعی ذمہ داری یاد دلاتا ہے۔ ایک صحت مند ماحولیاتی نظام کوئی عیاشی نہیں ہے، بلکہ یہ صاف پانی، خوراک کی فراہمی، موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت اور انسانوں کے لیے مستحکم اور دیرپا روزگار کی بنیادی شرط ہے۔ اگر ہم گدھ، ڈولفن، پینگولن یا برفانی چیتے کو بچا رہے ہیں، تو درحقیقت ہم اپنے ہی گھر کو تباہ ہونے سے بچا رہے ہیں۔
جنگلی حیات کی بقا کا یہ سفر رکاوٹوں سے بھرا ہوا ضرور ہے، لیکن یہ ناممکن نہیں ہے۔ منظم سائنسی نگرانی، مقامی آبادی کی شمولیت اور سخت حکومتی پالیسیوں کے ذریعے ہی اس بات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ ہماری زمین کی یہ قدرتی خوبصورتی آنے والے کل میں بھی زندہ رہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کائنات کے اس وسیع جال میں ہر جانور کی ایک خاص جگہ ہے، اور اگر ایک بھی دھاگہ ٹوٹتا ہے تو پورا جال کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس لیے، جنگلی حیات کا تحفظ اب کوئی آپشن نہیں، بلکہ انسانیت کی اپنی بقا کے لیے ایک حتمی ضرورت بن چکا ہے۔